ڈل جھیل کے قریب سالڈ ویسٹ ،سیوریج ٹریٹمنٹ پروجیکٹ ایک سنگین ماحولیاتی غلطی ہو گی
اس منصوبے سے ڈل جھیل کی بقا اور لوگوں کی صحت بری طرح متاثر ہو گی ، مفتی ناصر السلام

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے سرینگر کے قریب گپت گنگا-فورشور روڈ، نشاط میں مجوزہ سالڈ ویسٹ اینڈ سیوریج ٹریٹمنٹ پروجیکٹ کو ایک ماحولیاتی غلطی قرار دیا ہے جس سے ڈل جھیل کی بقا اور لوگوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے سرینگر میں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا ہے کہ گپت گنگا ویٹ لینڈ جو کہ ڈل جھیل کے لیے ایک اہم ماحولیاتی بفر زون ہے، کو کچرے کی پروسیسنگ اور سیوریج سائٹ میں تبدیل کرنے کے سنگین ماحولیاتی اورسماجی اثرات مرتب ہوں گے اور لوگوں کی صحت بری طرح متاثر ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ماحولیاتی طور پر تباہ کن اور سماجی طور پر ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پرکوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے لیے اس قدرتی ویٹ لینڈ کو تباہ کرنے سے ماحولیاتی تحفظ کی دہائیوں سے جاری کوششوں کو نقصان پہنچے گا ۔ انہوں نے کہاکہ یہ منصوبہ ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے جنہیں قابض انتظامیہ برقرار رکھنے کی دعویدار ہے۔
مفتی ناصر الاسلام نے انکشاف کیا کہ گپت گنگا اور قریبی علاقوں کے مقامی لوگوں کے ایک وفد نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی اور اس منصوبے کے ماحولیاتی اثرات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے واضح طور پر بتایا کہ اگر اس منصوبے کو فوری طور پر بند نہ کیا گیا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج پر مجبور ہو ں گے۔
ادھر گپت گنگا-فورشور روڈ نشاط اور ملحقہ علاقوں کے مکینوں نے ایک یادداشت پیش کی ہے جس میں وزیر اعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنر پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس منصوبے کو فوری طور پر روکیں اور منصوبے کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات کامکمل جائزہ لیں ۔






