”خون سے تلک کرو، گولیوں سے آرتی”:ڈوڈہ میں ہندو اساتذہ بچوں کو انتہاپسندی کی تعلیم دینے لگے
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکے ضلع ڈوڈہ میں ہندو اساتذہ مودی حکومت کی ایماء پربچوں کو انتہاپسندی کی تعلیم اور تشدد کی ترغیب دینے لگے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ایک ہندوٹیچرکوجس کی شناخت چندر کمار کے طور پر ہوئی ہے،گورنمنٹ مڈل اسکول سچل میںنئے تعلیمی سیشن کے آغاز پر بچوں کو صبح کی اسمبلی میں” خون سے تلک، گولیوں سے آرتی کرو ” اور”جے ہند ، جے بھارت ”کے نعرے لگواتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔چندرکمار کے پس منظر میں اسکول کے لان میں چھوٹے لڑکے اور لڑکیاں صبح کی اسمبلی کے لیے قطار میں کھڑے ہیں اور وہ ”وندے ماترم ”کا متنازعہ گیت گاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔واضح رہے ضلع ڈوڈہ کے چیف ایجوکیشن آفیسر نے حال ہی میں ایک حکمنامہ جاری کیاتھا جس میں طلباء کے لئے صبح کی اسمبلیوں میں ہندوتوا گیت ”وندے ماترم ”گانا لازم قراردیاگیا تھا ۔ اس حکمنامے کے خلاف پورے مقبوضہ جموں وکشمیر میں شدید احتجاج کیاگیا اورمختلف سیاسی ، سماجی اورمذہبی تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم متحدہ مجلس علماء نے اس کو مسلمانوں کے مذہبی عقیدے پر براہ راست حملہ قراردیتے ہوئے فوری طورپر واپس لینے کا مطالبہ کیاتھا۔ڈوڈہ میں سرکاری ٹیچر کی طرف سے بچوں کو انتہاپسندانہ تعلیم دینے کا یہ واقعہ سرکاری سرپرستی میںہندوتوانظریے کو فروغ دینے کا نتیجہ ہے۔اس واقعے کے خلاف مقامی لوگوں میں شدید غم وغصہ پایاجاتا ہے اورانہوں نے چیف ایجوکیش آفیسر کے پاس اس سلسلے میں شکایت درج کرائی ہے ۔ لوگوں کے غم وغصے کو ٹھنڈاکرنے کے لئے چندرکمارکو معطل کر دیا گیا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹیچر بچوں کو عسکریت پسندانہ اور پرتشدد تعلیم دے رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس طرح کا طرز عمل نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کی رہنمائی کرنے والے آئینی اور اخلاقی اصولوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ تعلیمات امن اور علم کی بجائے تشدد اور نفرت کو فروغ دیتی ہیں جو معصوم طلباء کی ذہنی اور جذباتی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں ۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات کے لئے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جواس معاملے کی مکمل تحقیقات کرے گی اور سفارشات کے ساتھ دو دن کے اندر حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کرے گی۔








