مقبوضہ جموں وکشمیر سخت پابندیوں کی زد میں ، گاڑیوں اورمسافروں کی سخت تلاشی لی جارہی ہے
سرینگر: دہلی کے لال قلعے کے قریب دھماکے کے ایک دن بعدقابض حکام نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں،مختلف علاقوں میں اضافی چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور پورے علاقے میں تلاشی کی کارروائیاںتیز کر دی گئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر سے لے کر کنٹرول لائن کے قریب راجوری اور کپواڑہ جیسے اضلاع تک اضافی چوکیاں قائم کی گئی ہیں، گاڑیوں، مسافروں اورراہگیروں کی تلاشی تیز کر دی گئی ہے اور اہم چوراہوں، بس اڈوں اورتمام داخلی راستوں پرلوگوں کی شناختی پریڈ کی جارہی ہے۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ یہ اقدامات بطور احتیاط عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی چوکیاں، گاڑیوں کی تلاشی اور جدید سکینرز، میٹل ڈیٹیکٹرز اور دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگانے والے آلات کا استعمال کیا جارہا ہے۔سرینگر شہر میںبھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اورپولیس کے اہلکاروں کو لال چوک، ڈلگیٹ، بمنہ اور نوگام سمیت اہم چوراہوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ گاڑیوں کو روکا جا رہا ہے اور مسافروں سے شناختی دستاویزات مانگی جاتی ہیں۔پلوامہ، شوپیاں اور اسلام آباد میں بھی اسی طرح کے اقدامات کئے گئے ہیں جہاں فرید آباد واقعے کے سلسلے میں کم از کم چار افراد کو گرفتارکیاگیا ہے جن کا تعلق لال قلعہ دھماکے سے جوڑا جارہاہے۔حکام نے سوپور، بارہمولہ، ہندواڑہ اور کپواڑہ میں بھی اضافی چوکیاں قائم کی ہیں جبکہ نام نہاد دراندازی کو روکنے کے لیے کنٹرول لائن پر تلاشی کارروائیاں اور گشت تیز کر دیا گیا ہے۔سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرمسافروں کی سخت اسکریننگ، دستی سامان کی جانچ اور ایکسرے اسکیننگ کے علاوہ پابندیاں سخت کردی گئی ہیں۔ جموں اور بانہال ریلوے اسٹیشنوں پر بھی تلاشی اور دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگانے والے آلات کا استعمال بڑھایا گیا ہے۔مسافروں کا کہنا ہے ٹرینوں میں سوار ہونے سے پہلے کئی بار تلاشی لی جارہی ہے۔ قابض حکام نے ہدایت جاری کی ہے جس میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بھارتی فورسزکے ساتھ تعاون کریں، مشکوک گاڑیوں کے بارے میں مطلع کریں اور پابندیوں کے دوران ہوشیار رہیں۔






