مقبوضہ جموں وکشمیرمیں حالات معمول پرآنے کے بی جے پی حکومت کے جھوٹے دعوے کی مذمت
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے علاقے میں حالات معمول پرآنے کے بی جے پی حکومت کے جھوٹے دعوے کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران ڈاکٹروں ، عام شہریوں ،نوجوانوں اوران کے والدین کو گرفتار اورہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت اس طرح کے اقدامات کو حق خودارادیت کے لئے کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کے لیے جنگی حربے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ترجمان نے علاقے کی موجودہ صورتحال کو خاص طور پر عام لوگوں کی حفاظت اور سلامتی کے حوالے سے انتہائی غیر یقینی قرار دیا۔ ایڈوکیٹ منہاس نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنرکی انتظامیہ ،بھارتی فورسز کی قیادت اور بی جے پی حکومت 5 اگست 2019کے غیر قانونی اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لیے امن، سرمایہ کاری اور ترقی کی جھوٹی داستانیں گھڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت یہ تاثردینے کی کوشش کر رہی ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں سب کچھ ٹھیک ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ترجمان نے نئی دہلی میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔بیان میں کہا گیا کہ دھماکے کے بعد پیش آنے والے واقعات سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس میں بی جے پی حکومت اور اس کی ایجنسیاں ”را” اور” این آئی اے” ملوث ہیں جس کا مقصدبھارت میں کشمیریوں اور مسلمانوں کو مجرم قرادینا اورانہیںہراساں کرنے کا جواز پیش کرناہے۔ حریت ترجمان نے واقعے کی تحقیقات کسی آزاد ادارے سے کرانے کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک عدالت کے قریب ہونے والے دھماکے کی بھی شدید مذمت کی اور متاثرہ خاندانوںسے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ بھارت کی ایماء پر افغانستان سے کام کرنے والے دشمنوں اور ان کے آقائوں کو بے نقاب کرے اور انہیں شکست دے۔ایڈوکیٹ منہاس نے کہاکہ کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں میں بھارتی فورسز کے لیے کنکریٹ کے ڈھانچوں کی تعمیر کے لئے زمینوں پر قبضہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جابرانہ پالیسیوں کی وجہ سے جموں و کشمیر کے لوگ شدید ذہنی تنائو کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق سے مقبوضہ علاقے کے لوگوں میں تشویشناک حد تک بے چینی، ڈپریشن اور نفسیاتی مسائل کا انکشاف ہوا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کشمیر کے بارے میں متعدد قراردادیں پاس کرچکا ہے، اس کے باوجودیہ تنازعہ ابھی تک حل طلب ہے۔ حریت ترجمان نے کہا کہ بھارتی فورسز نے ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام جیسے کالے قوانین کے تحت گرفتارکر لیا ہے لیکن وہ کشمیر کی تحریک آزادی کو کچلنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ایڈوکیٹ منہاس نے کہا کہ کشمیری عوام بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سمیت 5اگست 2019کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرتے ہیں ۔






