مقبوضہ کشمیر: انتظامیہ نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کیخلاف گھیرا تنگ کردیا
مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی کا حق مکمل طو ر پر سلب کر رکھا ہے ، مبصرین

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے ۔ بھارتی پولیس نے ایک تازہ انتباہ جار ی کیا ہے جس میں بھارت مخالف مواد اپ لوڈ یا شیئر کرنے کو اسکے خطرناک نتائج سے خبر کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے سرینگر ، بارہمولہ، بڈگام، شوپیاں، پلوامہ، سوپور اور دیگر علاقوں میں ایک سخت ایڈوائزری جاری کی ہیں جس میں کسی بھی ایسے شخص کے خلاف "سخت قانونی کارروائی” کی دھمکی دی گئی ہے جو بھارت کے اشتعال انگیز یا تنقیدی پوسٹس یا پیغامات پھیلانے میں ملوث پایا جائے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی کا حق بھی مکمل طور پر سلب کررکھا ہے اور جو کوئی علاقے کی اصل تصویر پیش کرنے اور بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کرتا ہے ، اسکے خلاف فوری کارروائی کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے یہ تازہ انتباہ بھی علاقے میں اظہار رائے کی آزادی کے حق کو مکمل طور پر سلب کرنے کی بھارتی پالیسی کا حصہ ہے۔
تجزیہ کاروں اور مبصرین نے کہا کہ بھارت کی تمام تر چیرہ دستیوں اور پابندیوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں ، پابندیوں ، قدغنوں سے انکے جذبہ آزادی کو مہمیز ملتی ہے اور وہ بھارتی قبضے کے خلاف تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔KMS-02/M







