پولیس کی تفتیش کے بعد خود کو آگ لگا نے والا ڈرائی فروٹ فروش زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ایک ڈرائی فروٹ فروش جس نے بھارتی پولیس اور ایجنسیوں کی حراست کے دوران پوچھ گچھ کے بعد خود کو آگ لگا ئی تھی، سرینگرکے ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس کی جانب سے پرتشدد پوچھ گچھ اوررہائی کے ایک دن بعد 55سالہ بلال احمد وانی نے اتوار کی صبح خود کو آگ لگا لی ۔قاضی گنڈ کا خشک میوہ فروش بلال وانی شدید جھلسنے کی وجہ سے سرینگر کے صورہ اسپتال میں زیر علاج تھا۔ اس کے اہل خانہ کے مطابق اسے ہفتے کی صبح قاضی گنڈ پولیس اسٹیشن بلایا گیا اور شام کو رہا کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بظاہر پریشان گھر واپس آیا اوراہلخانہ سے بہت کم بات کی۔اس نے اتوار کو قاضی گنڈ میں خود کو آگ لگا لی۔ اسے سرینگر کے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔بھارتی پولیس نے متاثرہ شخص کو اس کے بیٹے جاسر بلال سمیت دہلی دھماکے کے کیس میں گرفتار کیا تھا۔ اگرچہ بلال وانی کو بعد میں اسی رات رہا کر دیا گیا، اس کا بیٹا ابھی بھی زیر حراست ہے۔








