مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر: اجتماعی سزائیں اور کشمیریوں کے گھروں کی تباہی روز کا معمول بن گئیں

اسلام آباد:
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں اجتماعی سزائیں اور شہریوں کے گھروں کو تباہ کرنا روز کا معمول بن گیا ہے اور مقبوضہ علاقے میں بھارتی قابض افواج کو انسانی حقوق کی پامالیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم پر مکمل قانونی اور عدالتی چھوٹ حاصل ہے ۔
تازہ ترین واقعے میں 14نومبر کو بھارتی فوجیوں نے پلوامہ میں ڈاکٹر عمر نبی کے آبائی گھر کو تباہ کر دیا۔ ڈاکٹر عمر کے دو منزلہ گھر کو نصف شب بغیر کسی پیشگی اطلاع یا عدالتی نوٹس کے آپریشن کے دوران کنٹرولڈ آئی ای ڈیز کے ذریعے تباہ کیا گیا۔یہ کارروائی2024کے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی واضح خلاف ورزی ہے جس میں کسی بھی مکان کو منہدم کرنے سے قبل مناسب قانونی کارروائی پرزوردیاگیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق پلوامہ میں ڈاکٹر عمر نبی کے آبائی گھر کی مسماری بھارت کی ہندوتوا حکومت کی طرف سے کشمیریوں کو اجتماعی سزا کانشانہ بنانے کی واضح مثال ہے جو کہ جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 33کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔جنیوا کنونشن کی اس شق میں ریاستوں کو شک کی بنیاد پر خاندانوں یا کمیونٹیزاورانکی امکان کو نشانہ بنانے سے روکاگیا ہے۔ شہری املاک کی تباہی کو انتقامی کارروائی کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ شک کی بنیاد پر کسی شہری کے گھر کو تباہ کیاجانا بھارت کے اپنے آئین خصوصا خاص طور پر آرٹیکل 21 اور 17کی بھی خلاف ورزی ہے ، جس کے تحت شہریوں کو ان کے گھروں میں بلاجواز مداخلت سے تحفظ فراہم کیاگیاہے ۔2019سے اب تک مقبوضہ علاقے میں ایک ہزار700سے زائد گھروں کو تباہ کیا جا چکا ہے، جن میں 2020سے 2024تک ایک ہزار172 گھروں کو تباہ کیا گیاہے۔ انسانی حقوق گروپ ان اقدامات کامقصد کشمیریوں کو سکیورٹی کے نام پر بہانے ڈرا نادھمکا اور خوفزدہ کرنا ہے۔کشمیری سیاست دانوں نے بھی مودی حکومت کی طرف سے شہریوں کے گھروں کو تباہ کرنے کی کارروائیوں پر کڑی تنقید کی ہے ۔ محبوبہ مفتی، التجا مفتی اور عمر عبداللہ نے بار ہا خبردار کیاہے کہ شک کی بنیاد پر کشمیری خاندانوں کو نشانہ بنانے سے نوجوانوں میں دوری پیدا ہو رہی ہے ۔ پہلگام فالس فلیگ اور دلی دھماکوں کے بعد بھارتی قابض فورسز کی حالیہ انتقامی کارروائیوں کے دوران دوہزار سے زائد کشمیریوں کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے گرفتار اور درجنوں مکانات کو تباہ کردیا گیا۔جس سے ظاہرہوتاہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں شک کو ریاستی تشدد کے جواز کے طورپرپیش کیاجارہاہے ۔ان انتقامی کارروائی کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات انتہائی سنگین ہیں ۔ اپنے بیٹے کی جھوٹے الزامات کے تحت گرفتاری اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد بلال وانی کی خودسوزی سے بھارت کی تعزیری پالیسیوں کی سنگینی اور اجتماعی سزائوں کے انسانی المیے کو بے نقاب کرتی ہے۔کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی کشمیریوں کے گھروں کو تباہ کئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ان انتقامی اقدامات کا مقصد سیاسی مفاد ہے اور ان کارروائیوں سے کشمیریوں میں غم وغصہ اور دوری میں اضافہ ہو رہاہے ۔عالمی سطح پر تسلیم شدہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کو سکیورٹی کا اندرونی مسئلہ قرار دے کر بھارت خود کو بین الاقوامی انسانی قانون کی جوابدہی سے بچا نے کی مذموم کوشش اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم پر خو دکوعالمی احتساب سے بچانے کی منظم کوشش کر رہاہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے ان کارروائیوں کو امتیازی اور کشمیری مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی ایک منظم کوشش قرار دیا ہے۔ہندوتوا بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے کشمیریوں کے گھروں کی مسماری کا دفاع اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اقدامات کو مودی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے جو عالمی قوانین کے مطابق جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔KMS-15/Y

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button