بھارت : بی جے پی حکومت کاسکیورٹی کی سنگین ناکامیوں پرمسلسل جوابدہی سے فرار
مودی حکومت ہر واقعے کا الزام پاکستان یا کشمیریوں پر عائد کر دیا جاتاہے
نئی دلی:
بھارت کی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی ملک میں سیکورٹی کی سنگین ناکامیوں پر مسلسل جوابدہی سے فراراختیار کر رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت میں جب بھی کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے، توبی جے پی حکومت فوری طور پر اس کا الزام پاکستان یا مظلوم کشمیریوں پر عائد کر دیتی ہے تاہم سکیورٹی کی ناکامیوں پر کبھی بھی اندرونی تحقیقات یا اصلاحات کا آغاز نہیں کیا جاتا۔رواں سال اپریل میں پہلگام اور 10نومبر کو نئی دلی میں سکیورٹی کی سنگین ناکامیاں کئی جانوں کے ضیاع کا باعث بنی تاہم نہ تو بھارتی وزیر داخلہ استعفیٰ دیا اور نہ ہی کسی اور حکومتی عہدے دار سے جوابدہی کی گئی ۔پہلگام میں26سیاح جبکہ10نومبرکولال قلعہ کے قریب دھماکے میں 15افراد ہلاک ہوئے۔حزب اختلاف کے رہنماء اکھلیش یادواور انڈین نیشنل کانگریس نے لال قلعہ دھماکے پر مودی حکومت کو سکیورٹی کی ناکامیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ واقعہ دوبارہ کیسے ہو گیا ؟مودی حکومت نے پہلگا م فالس فلیگ کے بعد اپنے عوام میں فیس سیونگ کیلئے آپریشن سندورکے نام سے پاکستان پر فضائی حملے کیے ، مگر اس واقعے کی تحقیقات کا کوئی نتیجہ نہ نکلا اور حملے سے متعلق اٹھنے والے اہم سوالات کاکوئی جواب نہیں دیاگیا۔بی جے پی اس خوف میں مبتلا ے کہ غلطیوں کا اعتراف کرنے سے اس کا "سخت سیکورٹی” کا بیانیہ عوام میں بری طرح بے نقاب ہو جائے گا۔بھارتی سیکورٹی ادارے بشمول این آئی اے، آئی بی، را اور پولیس ناکافی وسائل اور افرادی قوت کی وجہ سے ملک کی سکیورٹی کرنے میں مسلسل ناکام ہیں ۔ این آئی اے کے پاس بھارت بھرمیں صرف 1,200افسران ہیں جو کہ بظاہر دہشتگردی سے نمٹنے میں مکمل ناکام دکھائی دیتی ہے ۔سوشل میڈیا ایکس پر مودی حکومت کی سکیورٹی ناکامیوں پر عوام کی طرف سے سخت تشویش کا اظہار کیاجارہاہے ۔ایکس پر صارفین مودی حکومت سے”الزام تراشی بند کرو”اور ”ادارے ٹھیک کرو”کی دہائی دے رہے ہیں ۔سکیورٹی ناکامیوں کا سارا ملبہ مسلمانوں اور کشمیریوں پرعائد کردیاہے ۔بھارت بھر میں کشمیری طلبہ کے ہوسٹلوں پرچھاپے اور انکی پروفائلنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ مودی حکومت کی طرف سے سکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود نتیجہ صفر ہے اور عوام حکومت کی ناکامیوں کا خمیازہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو کر بھگت رہے ہیں ۔ مودی حکومت نے چہرہ شناسی کی ٹیکنالوجی NATGRID اورمقبوضہ جموں وکشمیر کیلئے اے آئی ڈرونز کی خریداری پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے ۔تاہم اس کے باوجود پہلگام میں مبینہ حملہ آور کیسے ڈرونز کی سخت نگرانی والے سیاحتی مقام تک پہنچ گئے ۔دارلحکومت نئی دلی کے لال قلعہ میں دھماکہ ایک ایسے مقام پر ہوا ہے جو سب سے زیادہ سکیورٹی والا علاقہ ہے اور جہاں بڑی تعداد میں کیمرے موجود ہیں ۔مگر پھر بھی دہشتگردوں کا پتہ نہ چل سکا۔دلی دھماکے کے بعد مودی حکومت کی طرف سے فرید آبادمیں 2,900 کلو دھماکہ خیز مواد اور AK-47بررائفل برآمد ہونے کا دعویٰ کیاگیاہے تاہم اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کی اطلاع بھارت کی کسی سکیورٹی ایجنسی کو نہیں مل سکی ۔رواںسال جولائی کی ایک رپورٹ میں اس نکشاف کے بعد کہ دہشت گرد انکرپٹڈ ایپس اورمقامی ہمدردوں کی مدد سے روپوش رہتے ہیں کوئی انکوائری یا اصلاحات نہیں کی گئی ۔مودی کے بھارت میں رشوت ستانی اور بدعنوانی عروج پر ہے۔ جعلی پاسپورٹ پر دہشتگردوں اور مجرموں کا سفر امیگریشن میں بڑے پیمانے پر کرپشن کو بے نقاب کرتے ہیں ۔بھارت میں حوالہ اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے مزاحمتی تحریکوں کی فنڈنگ میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے، لیکن حکومت اس کے خلاف کوئی موثر کارروائی کرنے میں مسلسل ناکام ہے۔فرید آبادکیس میں دھماکہ خیز مواد کی غیر قانونی فنڈنگ کی مکمل تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے دہشتگردوں کی مالی سپورٹ کا سراغ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔بھارت میں ایکسپلوزو ایکٹ 1884آج بھی نافذ ہے تاہم امونیم نائٹریٹ اور جلیٹن اسٹک جیسے دھماکہ خیز مواد کی جدید ٹریکنگ کا کوئی نظام نہیں ہے، جو کہ شائننگ انڈیا کے دعوئوں کے برعکس ہے۔بھارت میں کبھی بھی کسی واقعے کی تحقیقات مکمل نہیں کی جاتی اور متاثرہ خاندان انصاف کے حصول کیلئے مسلسل دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں ۔ پہلگام حملے کی تحقیقات میں 8 ماہ گزر نے کے بعد بھی مکمل نہیں ہوئی ہیں ۔لال قلعہ دھماکے کی تحقیقات میں این آئی اے اور دلی پولیس کے درمیان اختیارات کی جنگ چل رہی ہے، جس کی وجہ سے تحقیقات سست روی کا شکار ہیں ۔بھارت میں2019میں پلوامہ، 2023کے منی پور اور 2025میں ہونے والے پانچ بڑے واقعات کی تحقیقات مکمل نہ ہونے سے مودی حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہیں ۔مودی حکومت اور سکیورٹی اداروں کی طرف سے ابتدائی رپورٹس میں غیر ملکی تعلق کو مسترد کیاجاتاہے تاہم بعد ازاں ا س کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر جان چھڑا لی جاتی ہے ۔SDPIاور انسانی حقوق کے گروپوں نے خبردار کیاہے کہ مودی حکومت ہر بار فرقہ واریت اور مذہبی تقسیم کو بڑھا کر اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہے ۔ہر حملے کے بعد، حکومت اپنا روٹین کا راگ الاپنا شروع ہو جاتی ہے اورہر حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کردی جاتی ہے تاہم عوام پر حقیقت کبھی ظاہر نہیں کی جاتی۔امیت شاہ نے رواں سال جوالائی میں دعویٰ کیاتھا کہ مقبوضہ کشمیر کو عسکریت پسندی سے پاک کر دیا جائے گاتاہم چار ماہ بعد لال قلعہ دھماکے میں سکیورٹی کی ناکامی پر استعفیٰ نہیں دیا ۔بی جے پی کی حکومتی ناکامیوں اور جوابدہی سے گریز سے بھارت کی سیکورٹی کی سنگین صورتحال واضح ہو تی ہے۔ عوام کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں لیکن مودی حکومت داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی اور مذہبی پروپیگنڈہ پھیلانے میں مصروف ہے۔




