ڈاکٹروں کے بعد اب کشمیری صحافی ہندوتوا حکومت کے نشانے پر

سرینگر: بھارت میں فرید آباد واقعے اور لال قلعہ دھماکے کی آڑ میں کشمیری ڈاکٹروں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کے بعدبی جے پی کی ہندوتوا حکومت نے اب کشمیری صحافیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کردیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 20نومبر کو نئی دہلی کے زیر کنٹرول ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA)نے تاریخی اخبار” کشمیر ٹائمز” کے جموں کے دفتر پر چھاپہ مارا اور تلاشی کے دوران اے کے47کی گولیاں، پستول کی گولیاں اور گرینیڈکا لیور برآمدکرنے کا دعویٰ کیا۔ اخبارکی ایگزیکٹیو ایڈیٹر انورادھا بھسین کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی جس میں ان پربھارت مخالف سرگرمیوںمیں ملوث ہونے اور انتشارپھیلانے کا الزام لگایاگیا۔قابض حکام نے اس کارروائی کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد صحافت کی آڑ میں بھارت مخالف بیانیے کو فروغ دینے والے نیٹ ورکس کے خلاف جاری کارروائیوں کا حصہ قرار دیا۔ اب انورادھا بھسین سے نام نہاد سرگرمیوں کے بارے میںپوچھ گچھ کی جائے گی۔تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا ڈاکٹروںکے خلاف کارروائیوں کا آئینہ دار ہے جو اختلافی آوازوں کو دبانے اور معاشرے کے ان شعبوں کوہراساں کرنے کی ایک منظم کوشش ہے جو ہندوتوا حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کررہے ہیں۔التجا مفتی سمیت سیاسی رہنمائوں نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ظلم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمنی کے الزامات کی آڑ میں اظہار رائے کی آزادی کوسلب کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹروں اور صحافیوں کو نشانہ بنانے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیشہ ورافراد اور سول سوسائٹی کے خلاف ہندوتوا یلغار کی عکاسی ہوتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی ظالمانہ کارروائیوں سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ مقبوضہ علاقے میں سچ کو بیان کرنا جرم قراردیاجاتاہے، آزاد آوازوں کو منظم طریقے سے دبایا جاتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرنے پر ہراساں یا تشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔ سینئر صحافیوں کو نشانہ بنانے سے لے کر میڈیا ہائوسز کو سیل کرنے اور تاریخی دستاویزات کو مٹانے تک بھارتی حکومت اختلاف رائے کو کچلنے اور تاریخ کوارسرنو تحریر کرنے کے لیے کالے قوانین کو ہتھیار کے طورپر استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آمرانہ کارروائی امن و امان کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیریوں کو خاموش کرنے، بیانیے کو کنٹرول کرنے اورعلاقے پر اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔








