بھارت

بھارت : ہماچل پردیش میں ہندوتوا تنظیموں کا مساجد کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری

نئی دہلی: بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں ہندوتوا تنظیموں نے شملہ کی سنجولی مسجد کے بعد اب ضلع اونا کی صدیوں پرانی مسجدکو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ نیا تنازعہ دولت پور چوک، وارڈ 1 میں رجسٹرڈ وقف اراضی پر تعمیر کی گئی مسجد پرکھڑا کیاگیا ہے۔مسجدکوجس کی معمولی مرمت ہو رہی تھی، اچانک ہندو گروپوںنے خطرہ قراردیا۔ انہوں نے گائوں والوں کو اکٹھا کرکے ڈپٹی کمشنر کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں تعمیرات کو مکمل طور پر روکنے اور نمازوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ احتجاج کرنے والی ہندوتوا تنظیموں کے ایک رکن نے دعوی کیاکہ اس گائوں میں کوئی مسلمان نہیں ہے، پھر بھی آس پاس کے لوگ یہاں نماز پڑھنے آتے ہیں۔ اس سے مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔تاہم اکثریتی برادری سے تعلق رکھنے والے کئی امن پسند باشندوں نے ان الزامات کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ مسجد سے ان کے معمولات زندگی میں کبھی خلل نہیں پڑا۔ ایک مقامی ہندو نے کہاکہ نماز کے لیے مسلمانوں کے یہاں آنے سے کبھی کسی کو پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جو لوگ مشکلات پیدا کر رہے ہیں وہ گائوں کی بات نہیں کررہے بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ایک اورمقامی ہندو نے بتایاکہ مسجد وقف اراضی پر بنائی گئی ہے، یہ سب جانتے ہیں، پھر بھی وہ تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button