خرم پرویز سمیت تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں سول سوسائٹی کے ارکان نے انسانی حقوق کے ممتاز کشمیری کارکن خرم پرویز سمیت غیر قانونی طور پر نظر بند تمام کشمیریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خرم پرویز نے غیر قانونی نظربندی کے چار سال مکمل کر لیے ہیں۔ انہیں 22نومبر 2021کو بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے من گھڑت الزامات پر گرفتار کیا تھا جن میںبھارت کے خلاف جنگ چھیڑنا یا جنگ چھیڑنے کی کوشش کرنا جیسے الزامات شامل ہیں۔ بعد میں ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یواے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ سول سوسائٹی کے ارکان نے سرینگر میں ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ خرم پرویز کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی گرفتاری اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ کشمیریوں کو نشانہ بنانے کے لیے انسداد دہشت گردی کے قوانین کا کس طرح غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اورنیشنل کانفرنس کے رہنما آغا روح اللہ نے سوشل میڈیاپر ایک بیان میں کہاکہ خرم پرویز 1,460دن یعنی چار سال سے اپنے چھوٹے بچوں اور اہلیہ سے 500کلومیٹر دور دہلی کی روہنی جیل میں نظربند ہیں،ان کا واحد جرم ان لوگوں کے لئے آواز اٹھانا ہے جنہیںدنیا نے نظرانداز کیاہے۔ان کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ درج کیاگیا ہے حالانکہ ان کاہتھیار محض الفاظ، ان کی جرات اور انتھک محنت تھی۔ یہاں تک کہ جب ایک دھماکے میں ان کے دو ساتھی مارے گئے اوران کی ٹانگ ناکارہ ہوگئی تب بھی انہوں نے انصاف کا راستہ ترک کرنے سے انکارکیا۔ 22نومبر کو ان کی غیر قانونی نظربندی کو چارسال مکمل ہوگئے اوریہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے مشن کوآگے بڑھائیں۔انہوں نے کہاکہ ظلم ،حقوق چھینے جانے کے خلاف اور اپنے لوگوں کے وقار کے لیے کھڑا ہونا انکے ساتھ اظہار یکجہتی کا بہترین طریقہ ہے۔
دریں اثنا ء کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں نے سرینگر میں جاری اپنے بیانات میں کہاکہ خرم پرویز کے ساتھ ساتھ ہزاروں دیگر کشمیری بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں جن میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال،شاہدالاسلام، فاروق احمد ڈار، مشتاق الاسلام، مولوی بشیر عرفانی، بلال صدیقی، عبدالاحد پرہ، عمر عادل ڈار، فیاض حسین جعفری، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر عبدالحمید فیاض اور دیگر شامل ہیں۔ حریت رہنمائوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان قیدیوں کی رہائی کے لیے فوری مداخلت کرے۔





