بھارت

ایودھیا : نریندر مودی آج بابری مسجد کی جگہ تعمیر ہونیو الے رام مندر پر ہندوتوا جھنڈا لہرائیں گے

ایودھیا:ایودھیا میں ہندوانتہا پسندوں کی طرف سے شہید کی گئی تاریخی بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تکمیل کے بعد بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانیوالے امتیازی سلوک کے حوالے سے نئی تشویشات جنم لے رہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہندو انتہاپسندوں نے 6دسمبر 1992کو مسلمانوں کی تاریخی عبادت گاہ بابری مسجد کو شہیدکیا گیاتھا۔ مسجد پر ہندو انتہا پسندوں کے حملے کے دوران پوری ریاست اتر پردیش میں ہنگامے جاری رہے اور مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔آج منگل کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایودھیا میں رام مندر میں ایک ہندوتوا تقریب کے دوران 22فٹ طویل دھارمک جھنڈالہرائیں گے۔ اس تقریب کی تیاریوں نے بھارت بھر میں خاص طور پر اقلیتی برادریوں کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔1992میں مسجد کی شہادت کے بعد، بھارت بھر میں شدید فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں مسلمانوں کووحشیانہ طور پر نشانہ بنایاگیا تھا۔ 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی شہادت کو توغیر قانونی قرار دیاتھاتاہم مسجد کی زمین ایک ٹرسٹ کے حوالے کردی تھی، جس پر رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی گئی تھی۔ نریندر مودی آج ایودھیا میں رام مندر پرہندوتوا زعفرانی پرچم لہرا ر ہے ہیں جبکہ بابری مسجد کا ملبہ اور اس کی یادیں مسلمانوںکے لیے ایک دردناک حقیقت بن چکی ہیں۔مبصرین اور انسانی حقوق کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت دراصل انتہاپسندانہ سیاست اور بلوائیوں کے تشدد کو انتخابی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی ایک بدترین مثال بن چکی ۔مودی کی ہندوتوا حکومت رام مندرکی تعمیر کو اپنی فتح اور برتری کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ بابری مسجد کی جگہ پر مندر کی تعمیر سے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح انتہاپسند نظریات کے ذریعے بھارت میں سیکولر آئین، جمہوری اصولوں اور قانون کی حکمرانی کوپامال کیا جارہاہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button