کشمیر ٹائمز پر چھاپہ جموں وکشمیرمیں آزادی صحافت کے لئے بڑھتی ہوئی مشکلات کاعکاس ہے:سی اے ایس آر
نئی دہلی:بھارت میں شہری حقوق کی مختلف تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم ”کمپین اگینسٹ سٹیٹ رپریشن ”نے جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر ریاستی تحقیقاتی ادارے کے حالیہ چھاپے اور اس کی ایگزیکٹیو ایڈیٹراور غیر جانبدار صحافی انورادھا بھسین کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سی اے ایس آرنے ایک بیان میں انورادھابھسین کے خلاف کارروائی کو پریشان کن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے جابرانہ اقدامات جموں و کشمیر میں صحافیوں کو درپیش ہراسانی کی عکاسی کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد تنقیدی اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرانا ہے۔انورادھابھسین پہلے بھی کشمیر میں آزادی صحافت پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ سی اے ایس آرنے کہا کہ ان کی کتاب ‘A Dismantled State: The Untold Story of Kashmir After Article 370’جس میں جموں وکشمیرمیں میڈیا اور شہری آزادیوں پر پابندیوں کو اجاگرکیاگیا ہے، کے باعث انہیں عوامی تقریبات میں پابندیوں سمیت رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تنظیم نے کہا کہ ان کے صحافتی اور ادبی کام کی بار بار چھان بین سے انتقامی کارروائی کا تاثر ملتا ہے۔بیان میں صحافیوں کے خلاف تلاشی کارروائیوں، ایف آئی آرز، آلات کی ضبطی ، سفری پابندیوں اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA)، نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (NSA)اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام جیسے کالے قوانین کے تحت گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس واقعے کو کشمیر میں صحافت کے لیے بڑھتی ہوئی مشکلات کاعکاس قراردیاگیاہے ۔تنظیم نے صحافیوں کے خلاف جابرانہ کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے، جموں و کشمیر میں صحافیوںکے تحفظ، اشاعتوں اور عوامی تقریبات پر پابندیوں کو ختم کرنے اور آزادی اظہار اور آزادی صحافت کی آئینی ضمانتوں کی پاسداری کا مطالبہ کیاہے۔تنظیم نے جموں وکشمیرمیںنظربند صحافیوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔سی اے ایس آر نے اس اقدام کوجموں وکشمیر کے قدیم ترین اخبارات میں سے ایک کشمیر ٹائمز کی اشاعت کو روکنے کی کوشش قراردیتے ہوئے انسانی حقوق گروپوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ ان واقعات کے خلاف آواز اٹھائیں۔سی اے ایس آرسے وابستہ تنظیموں AIRSO, AISA, AISF, APCR, ASA, BASF, CEM, CRPP, DTF, IAPL, ،NAPM, NTUI, SFISS, UNAP, RAISS.،مزدور ادھیکار سنگٹھن،پیپلز واچ،بھیم آرمی، رہائی منچ، یونائیٹڈ پیس الائنس ،فرٹرنٹی موومنٹ اوردیگر نے بیان کی توثیق کی ہے۔







