انسانی حقوق

”انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس“کی جموں میں ”کشمیر ٹائمز “کے دفتر پر چھاپے کی مذمت

برسلز25 : انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں معروف انگریزی اخبار ”کشمیر ٹائمز “کے دفتر پر چھاپے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے علاقے میں پریس کی آزادی کو دبانے کی مودی حکومت کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دلی کے زیر کنٹرول ”سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی ( ایس آئی اے) نے رواںماہ کی 20 تاریخ کو جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مار کر ڈیجیٹل آلات ضبط کرلیے تھے ۔ ایجنسی نے دفتر سے گولہ بارود بھی ضبط کرنے کا مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے۔ ایس آئی اے نے کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھسین کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔
نورادھا بھسین نے اپنے دفتر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اخبار کے خلاف ”بھارت مخالف“ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بے بنیاد ہیں اوران الزامات کا مقصد اس خطے میں آزاد صحافت کو خاموش کرناہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پر تنقید کرنا ملک دشمنی کے مترادف نہیں ہے اور اہل اقتدار سے سوال پوچھنے والا پریس، درحقیقت جمہوری نظام کو مضبوط بناتا ہے اسے کمزور نہیں کرتا۔
صحافتی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ”رپورٹز ود آﺅٹ بارڈرز“ سمیت کئی عالمی تنظیموں نے کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے انورادھا کے خلاف مقدمہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) نے اخبار کے دفتر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انورادھا بھسین کو 2019کے بعد سے بھارت کی طرف سے سخت دباﺅ کا سامنا ہے ، انہیں کشمیردشمن بھارتی پالیسیوں کو تنقیدکا نشانہ بنانے پر سرکاری اشتہارات سے محروم کر دیا گیا جس کی وجہ سے انہیں مالی مشکلات درپیش آئیں او ر انہیں اخبار کی اشاعت بند کر کے 2022 میں اسے مکمل طور پر آن لائن کرنا پڑا۔
آئی ایف جے نے مزید کہا مقبوضہ علاقے میں بھارت نے سنسر شپ کا سلسلہ تیز کر دیا ہے جس میں پریس کلبوں کی بندش ، ویب سائٹس اور سوشل میڈیا چینلز کو بلاک کرنا، میڈیا کارکنوں کی مسلسل ہراسانی وغیرہ شامل ہیں۔تنظیم نے بھارت پر زور دیا کہ وہ پریس کی آزادی کو برقرار رکھے اور مقبوضہ علاقے میں آزاد صحافت یقینی بنائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button