بھارت میں اقلیتوں کے خدشات اور ہندوتوا بیانیے کے حوالے سے نئی بحث شدت اختیار کر گئی
ایودھیا:رام مندر پر آر ایس ایس کا جھنڈ ا لہرانے پر نریندر مودی کوکڑی تنقید کا سامنا

نئی دلی: بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے ایودھیا میں شہید بابری مسجد کی جگہ تعمیر ہونیو الے رام مندر پرہندوتوا آر ایس ایس کا جھنڈا لہرانے کو مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور ہندوتوا آر ایس ایس کی بڑھتی ہوئی قربت بھارت میں اقلیتوں، خصوصا مسلمانوں کے لیے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ناقدین کے مطابق بی جے پی نے رام مندر کی تعمیر اور بابری مسجد کی شہادت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور اسے ایک قومی جشن کا رنگ دے کر مذہبی اقلیتوں کے جذبات کو پامال کیا گیا۔ ان کامزیدکہناتھاکہ رام مندر کا قیام آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریاتی اثرات کے تحت ممکن ہوا۔نریندر مودی کی جانب سے رام مندر پر جھنڈہ لہرانے سے بھارت میں ہندوتوا بیانیے اور اقلیتوں کے حوالے سے ایک نئی بحث بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ایودھیا کا یہ موقع بھارت کی ثقافتی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی اسے "نئے دور کی شروعات” قرار دیتے ہوئے کہا کہ رام مندر 140کروڑ بھارتی شہریوں کے لیے قومی فخر کی علامت ہے۔تاہم بھارت کے مختلف سیاسی و سماجی حلقے اس پیش رفت کو اقلیتوں کیلئے باعث تشویش قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی پولرائزیشن اور ہندوتوا سوچ اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادیوں کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔






