دہلی فسادات :پانچ سال کی قیدو بند کے بعد6 مسلمان نوجوان عدالت سے بری
لوگ پوچھتے ہیں کیا گرفتاریوں کے احکامات دینے والے افراد کو بھی سزا ملے گی؟

نئی دہلی: دہلی فساد ات کے ایک کیس میں عدالت نے 5 سال کی قیدو بند کے بعد6 مسلمان نوجوانوں کو بے قصور قرار دیتے ہوئے بری کردیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس فیصلے سے نوجوانوں کے گھروں میں برسوں بعد راحت اور خوشی دیکھنے کو ملی ،تاہم یہ سوال کھڑاہوگیا کہ بے قصور نوجوانوں کی زندگیاں برباد کرنے والے پولیس افسران کی ذمہ داری کون طے کریگا؟جن نوجوانوں کو بری کیاگیا ہے ان میںگلزار، شہزاد، واجد، ساجد، شہباز اور سلیم شامل ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دہلی پولیس آتشزدگی اور لوٹ مار کے الزامات ثابت کرنے کیلئے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکی۔اس فیصلے سے ایک بار پھر فسادات سے متعلق ہونے والی تحقیقات کی خامیاں بے نقاب ہوگئیں جو اب بھی دہلی کے بہت سے مسلمان خاندانوں کو متاثر کر رہی ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الزامات کمزور اور غیر ثابت شدہ ہیں، اس لیے ان نوجوانوں کی قید غیر مناسب تھی۔ عدالت نے کہاکہ ہمارے سامنے کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ استغاثہ شک وشبہ سے بالا تر ہوکر جرم ثابت نہیں کر سکا۔ فیصلے سے فسادات کے دوران پولیس کے کردارپر سنگین سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ شہزاد کی عمررسیدہ والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے نے اس جرم میں5 سال جیل کاٹی جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ ا س کے وہ 5سال کون واپس کرے گا؟ان کا سوال دہلی کی مسلمان آبادی کی تکلیف اور غصے کی عکاسی کرتا ہے۔ اب لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ان گرفتاریوں کے احکامات دینے والے افراد کو بھی سزا ملے گی۔ایک مقامی شخص نے بتایا اگر پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا تو ان نوجوانوں کو 5سال تک کیوں قید رکھا گیا؟ کیا اس ناانصافی کا کوئی جواب ہے؟






