اپوزیشن پارٹیوں کا مودی حکومت کے خلاف دوسرے دن بھی زبردست احتجاج
انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ
نئی دلی: بھارتی پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوسرے دن منگل کو بھی انڈین نیشنل کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے مودی حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے کانگریس پارٹی کے صدر ملکار جن کھڑگے، راہل گاندھی اور سونیا گاندھی سمیت کانگریس رہنمائوں نے اپوزیشن کے دیگر اراکین پارلیمنٹ کے ہمراہ مکر دوار کے باہر جمع ہو کر مودی حکومت کی طرف سے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی کے خلاف احتجاج کیا۔انہوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی کے مودی حکومت کے فیصلے پر پارلیمنٹ میں فوری بحث کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ 12ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں جاری انتخابی فہرستوں پر خصوصی نظرثانی مہم کے ذریعے بڑے پیمانے پر اپوزیشن کے ووٹروں کے نام حذف کئے جارہے ہیں جس سے انتخابی شفافیت اور عوامی حقوق متاثر ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت شہریوں کے حقوق پر حملہ آور ہے ۔ انہو ں انتخابی فہرستوں پر خصوصی نظرثانی مہم پر فوری پارلیمنٹ میں بحث کرانے کامطالبہ کیا کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست طورپر شہریوں کے حق رائے دہی سے متعلق ہے۔ان کا مزیدکہنا تھا کہ مودی حکومت کے دور میں عوام کے حق رائے دہی کو خطرہ لاحق ہے ۔ریاست بہار میں 62لاکھ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ بہت سے بی ایل اوز نے دبا کی وجہ سے خودکشی تک کر لی ہے۔ یہ جمہوریت کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔اپوزیشن رہنمائوں نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں مفصل بحث کرانے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔
واضح رہے کہ سرمائی اجلاس کے پہلے دن پیر کو اپوزیشن نے انتخابی فہرستوں پر خصوصی نظرثانی مہم پر شدید احتجاج کیاتھا، جس کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی کو بار بار ملتوی کرنا پڑاتھا۔منگل کواجلاس کے دوسرے دن بھی اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائیوں ملتوی کرنے کا سلسلہ جاری رہا ۔







