بھارت کشمیریوں کو جسمانی طور پر ناکارہ بنانے کے لئے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے

سرینگر: آج جب دنیابھر میں خصوصی افرادکا عالمی دن منایاجارہا ہے، بھارتی فورسزمظلوم کشمیریوں کوعلاقے میں جاری سیاسی ناانصافیوں اور انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کی وجہ سے مسلسل معذور بنا رہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے اس دن کے حوالے سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کو معذوربنانے کے لئے تشدد کا مسلسل استعمال کررہا ہے۔انسانی حقوق کی رپورٹوں میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے تفتیشی مراکز میں تشدد کے متعدد سفاکانہ طریقوں کی نشاندہی کی گئی جن میں بجلی کے جھٹکے ، شدید مار پیٹ اور گرم اشیا سے جلاناشامل ہے جن کی وجہ سے لوگ مستقل طور پر معذور بن گئے یا جاں بحق ہوگئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ علاقے میںمعذور افراد کو اکثر صحت کی دیکھ بھال ، بحالی کی سہولیات اور مالی امدادکے فقدان کا سامنا رہتا ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنے اہل خانہ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت بھارتی فورسز کو استثنیٰ حاصل ہے جس کی وجہ سے تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروانی نہیں ہوسکتی۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ مقبوضہ علاقے میں معذور افراد کو دوہرے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایک طرف معذوری اور دوسری طرف جنگ زدہ علاقے میں زندگی گزارنے کے عمومی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اکثر معاشرتی تنہائی کا شکارہوتے ہیں اور تعلیم اور روزگار کے مواقع تک رسائی میں دشواری ہوتی ہے۔جموں کشمیر کوئلیشن آف سول سوسائٹی، لاپتہ افراد کے والدین کی ایسوسی ایشن ،ایمنسٹی انٹرنیشنل اوراقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر جیسے اداروں نے اپنی رپورٹس میں ان مسائل کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ کے ایم ایس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسزکے سفاکانہ اور غیر انسانی تشدد سے ہزاروں کشمیری زندگی بھر کے لئے معذور ہوچکے ہیں اور سیکڑوں افراد ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے چہرے اور جسم کے دیگر حصے زخمی ہوئے ہیں۔کشمیریوں کو معذوربنانے کے لئے بھارتی فوج ، پیراملٹری فورسز اور پولیس کے اہلکار جو ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں ان میں گولیاں ، چھرے ، آنسوں گیس اور پاوا کے شیل شامل ہے۔اس کے علاوہ لوگوں کو شدید تشدد، بجلی کے جھٹکے ، لکڑی کے رولر سے ٹانگوں کے پٹھوں کو کچلنے ، گرم چیزوں سے جلانے اور الٹا لٹکا دینے جیسے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔ بوبی ٹریپس اوربارودی سرنگوں کو بھی کشمیریوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے جن کی وجہ سے1947 سے ہزاروں کشمیری شہید اورمعذور ہوچکے ہیں ۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ جب سے بھارت نے مہک چھروں کا استعمال شروع کیا، معذورافراد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور تین ہزار سے زیادہ کشمیری ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہونے کے دہانے پر ہیں۔جولائی 2008میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران کئی ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں اور سیکڑوں افراد کو چھروں ، گولیوں ، آنسو گیس کے گولوں اور پاوا شیل کے استعمال سے مستقل طور پر معذور بنایا گیا ہے۔اس وقت کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے ایک بیان کے مطابق جولائی 2016اور فروری 2017کے درمیان چھروں سے 6ہزار200سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔







