APHC-AJK

بابری مسجد کی شہادت نے بھارت کے سیکولر دعوﺅں کی قلعی کھول دی ہے، حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ

اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ نے کہا ہے کہ 6 دسمبر بھارت کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ دن ہے جب 1992 میں اس روز ہزاروں انتہا پسند ہندﺅں نے حکومتی سرپرستی میں تاریخی بابری مسجد شہید کر کے ملک کے سیکولر دعوﺅںکی قلعی کھول دی۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی اور سینئر رہنماﺅں محمد فاروق رحمانی ، محمود احمد ساغر نے اسلام آباد میں جاری اپنے بیانات میں کہا کہ صدیوں پرانی تاریخی مسجد کا انہدام بی جے پی اور آر ایس ایس کا ایک منظم اور سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔انہوں نے کہا کہ مسجد کی شہادت کے دلخراش مناظر اب بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کی ذہنوں میںتازہ ہیں،مسجد کی شہادت کا یہ سانحہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوںخاص طور پر مسلمانوں کو کس قدر عدم تحفظ، امتیازی سلوک اور ریاستی جبر کا سامناہے۔انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا انہدام بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی ورثے کو مٹانے کے ایک وسیع تر ایجنڈے کا حصہ تھا، مودی حکومت میں مساجد ، زیارت گاہوں اور درگاہوں کو نشانہ بنانے کا یہ مذموم عمل مسلسل جاری ہے ۔
حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنماﺅں نے کہا کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی ہندو توابھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھی مسلمانوں کے دیگر بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کر رکھے ہیں اور وہ علاقے کو مکمل طور پر ہندو توا کے رنگ میں رنگنے کی ایک منصوبہ بند سازش پر عمل پیراہے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کو جمعہ اور عیدکی نماز کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے ، بھارتی فورسز مساجد ، مدارس پر چھاپے مار کر انکی بے حرمتی کر رہی ہیں ۔ انہوںنے کہا مساجد پر چھاپے، انکی تالہ بندی ، لاﺅڈ سپیکروں کی ضبطی مذہبی آزادی کی بدترین پامالی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق عالمی اداروں پر زور دیا کہ مسلمانوں کے خلاف منظم جبر، مذہی حقوق کی سلبی اور مقبوضہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف پامالیوں پر بھارت کا فوری محاسبہ کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button