مودی حکومت کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی مذموم پالیسی پرعمل پیراہے، حریت کانفرنس
سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جمو وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی بھارتی حکومت علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے تر جمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت اپنی نظریاتی تنظیم ”آر ایس ایس “کے ساتھ مل کر جموں وکشمیر میں اپنے ہندو توا ایجڈے کو ایک منصوبہ بند طریقے سے آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ اگست 2019کو جموںوکشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کی غیر قانونی کارروائی کا واحد مقصد علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے کے وسائل کی بے دریغ لوٹ مار کر رہی ہے ، وہ کشمیریوں کو معاشی طور پر مفلوک الحال بنانا چاہتی ہے ۔۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت نے 27 اکتوبر 1947 کو جموں وکشمیر پر فوجی طاقت کے بل پر قبضہ جما لیا اور وہ کشمیریوں کا مسلسل استحصال کرتا آرہا ہے۔ مودی حکومت نے اگست 2019کے بعد علاقے میں نت نئے قوانین نافذ کیے ، کشمیریوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کیلئے 2022میں لینڈ گرانٹ رولز کا نفاذ کیا گیا جس کا مقصد کشمیریوں سے زمینیں لیکر بھارتی ہندوﺅں کے حوالے کرنا ہے ۔ بھارتی حکومت نے علاقے کے ڈومیسائل قوانین میں بھی تبدیلی لائی ہے اور اس نے گزشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں بھارتی ہندوﺅں کو مقبوضہ علاقے کے ڈومیسائل سرٹفیکٹس فراہم کیے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی قرار دادوں پر عملدرآمد کے بجائے کشمیریوں کو اپنے ہی سرزمین پر اجنبی بنانے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے جسکاعالمی برادری کو نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانیت کے خلاف جاری سنگین بھارتی جرائم کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے بھارتی قیادت پر دباﺅ ڈالیں۔






