پاکستان

سڈنی واقعے پر بھارت نے بغیر شواہد اور تصدیق کے پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

اسلام آباد :وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سڈنی واقعے پر بھارت نے بغیرشواہد اور تصدیق کے پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنایا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وفاقی وزیر نے غیر ملکی میڈیا سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سڈنی اور بونڈائی بیچ کے واقعے پر بغیر شواہد اور تصدیق کے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا گیا جو افسوسناک ہے۔ سڈنی واقعہ کے فوری بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اکائونٹس کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے، حالانکہ کسی بھی چینل نے واقعے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مستند چینلز کا بھی ڈس انفارمیشن کا حصہ بننا انتہائی مایوس کن ہے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت پاکستان نے سڈنی واقعہ کی فوری طور پر مذمت کی جبکہ صدر مملکت اور وزیراعظم نے بھی بونڈائی بیچ واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بعض میڈیا اداروں نے ادارتی اصولوں اور صحافتی ضابطوں کا خیال نہیں رکھا۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بونڈائی بیچ واقعہ کا ملزم بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآبادسے تعلق رکھتا ہے، جس کے بعد پاکستان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ثابت ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلائی گئیں اور دشمن ملک کی جانب سے پاکستان کے خلاف مذموم مہم چلائی گئی۔انہوں نے پاکستان کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل سڈنی واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اب تصدیق ہو چکی ہے کہ سڈنی میں فائرنگ کرنے والے حملہ آور بھارتی تھے، جنہوں نے نومبر میں فلپائن کا بھی دورہ کیا تھا، اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ حملہ آور کون تھے اور ان کا تعلق کہاں سے تھا۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں فتنہ الہندوستان کی کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کو مسلسل عدم استحکام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سڈنی واقعے پر آسٹریلوی حکام کے ذمہ دارانہ رویے کو سراہتے ہوئے کہا کہ حقائق سامنے آنے کے بعد سچ واضح ہو گیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button