حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کی طرف سے وزیر اعلیٰ بہار کے شرمناک فعل کی مذمت

اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ نے بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی طرف سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب زبردستی ہٹانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین اور اصول و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے رہنما سید فیض نقشبندی نے اسلام آباد میں ایک بیان میں اس شرمناک فعل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کے وقار، خود مختاری اور مذہبی آزادی پر حملے کے مترادف ہے نیز یہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوںنے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی بے گناہ نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل اور بلا جواز گرفتاری کے ساتھ ساتھ خواتین کے خلاف بھی سنگین جرائم میں ملوث ہیں اور بھارتی فوج کشمیری خواتین کی بے حرمتی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے بہار کے وزیرِ اعلیٰ کے شرمناک فعل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ریاستی سطح پر پروان چڑھنے والی متعصبانہ سوچ کا واضح غماز ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی غور طلب اور تشویشناک حقیقت ہے کہ ایک عوامی عہدہ رکھنے والا شخص دن دہاڑے، میڈیا کی موجودگی میں پوری ڈھٹائی کے ساتھ اس نوعیت کی شرمناک حرکت کرنے سے نہیں ہچکچاتا۔ یہ عمل اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ بھارت میں طاقتور طبقے خود کو قانون، اخلاق اور انسانی اقدار سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں۔

مشتاق احمد بٹ نے اس واقعہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے اگر ایک وزیرِ اعلیٰ کیمروں کے سامنے ایسا کرسکتاہے تو پھر ان علاقوں میں، جہاں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فورسز تعینات ہیں اور جنہیں ہر سطح پر استثنیٰ حاصل ہے، وہاں اقلیتوں اور بالخصوص کشمیری عوام کے ساتھ پسِ پردہ کیا سلوک کیا جاتا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ ذہنیت ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت بھارت کے مختلف حصوں میں ماورائے عدالت قتل، خواتین کی تذلیل، مذہبی آزادی پر قدغن اور اجتماعی سزاو¿ں جیسے مظالم کو جنم دے رہی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور بااثر عالمی میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں جاری اقلیتی مخالف پالیسیوں اور رویّوں کا نوٹس لیں۔KMS-14/M






