APHC-AJK

مقبوضہ جموں وکشمیر کی بگڑتی ہوئی سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال پرڈی ایف پی کااظہار تشویش

اسلام آباد:جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال کا فوری نوٹس لے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈی ایف پی کے قائم مقام صدر محمود احمد ساغر نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے کے عوام سات دہائیوں سے زائد عرصے سے بھارت کے ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کے حق خودارادیت سے محروم کررکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمران کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق دینے کے بجائے 75سال سے ان کی منصفانہ جدوجہد آزادی کو فوجی طاقت سے کچلنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ محمودساغر نے افسوس کا اظہار کیا کہ مقبوضہ علاقے میں تعینات تقریبا دس لاکھ بھارتی فوجی کشمیریوں کو دبانے کے لیے ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں اور خواتین کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے کو اس کے باشندوں کے لیے ایک جہنم بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں بنیادی انسانی حقوق سلب کر لیے گئے ہیں اور پوری کشمیری قیادت کو مختلف بہانوں سے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے اورحالات معمول پر آنے کا جھوٹا بیانیہ پیش کیا جارہا ہے۔محمودساغر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کو حل کرنے پر مجبور کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے بھارت میں بڑھتی ہوئی نفرت اور اسلامو فوبیا پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور مسلمان خواتین کی توہین ایک معمول بن چکا ہے۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی طرف سے ایک خاتون ڈاکٹر کے چہرے سے نقاب ہٹانے کے حالیہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ بھارتی سیاست میں موجود انتہا پسندانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے اور اس انتہا پسندانہ ذہنیت نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیا ہے، انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات بھارت کے سیکولرازم اور تکثیریت کے دعوئوں کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button