کشمیری تاجروں کو بھارت میں ہراساں اورہندوتوا نعرے لگانے پر مجبور کیا جارہا ہے

سرینگر:بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے کشمیری تاجروں کو ہراساں کرنے اورانہیں ہندوتوا کے نعرے لگانے پر مجبورکرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری تاجروں کو کشمیر کازسے وابستگی اورمسلمان ہونے کی وجہ سے ”بھارت ماتا کی جے ”جیسے ہندوتوا نعرے لگانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ہماچل پردیش میں کشمیری شال فروشوں کو علاقے سے چلے جانے اور اپنی فروخت روکنے پر مجبور کیا گیا جو حالیہ مہینوں میں اس طرح کی ہراسانی کا 15واں واقعہ ہے۔کشمیری شال فروشوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انتہا پسند ہندو کاروبار کے دوران انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں، رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور انہیں تشددکا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایک درجن سے زائدکشمیری تاجروں نے پریس کے سامنے اس طرح کی شکایاتیں کیں۔کشمیری تاجر بھارت میں چمڑے کی جیکٹس، موزے، بیگ، ہاتھ سے بنی پشمینہ شالیں اور خواتین کے سوٹ فروخت کرتے ہیں۔ وہ ہر سال نومبر کے شروع میں بھارتی ریاستوں کا رخ کرتے ہیں اور مارچ کے بعد واپس آتے ہیں۔ وہ اپنا سامان اپنے کندھوں پر اٹھاکربھارت کے مختلف علاقوں میں جاتے ہیں اور جہاں بھی گاہک ملے ، اپنی اشیاء بیچ دیتے ہیں۔ہماچل پردیش میں ایک کشمیری تاجر نے انتقامی کارروائی کے خوف سے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایاکہ ہندو انتہا پسند تنظیمیںہمیں اپنی تجارت بند کرنے اور کشمیر واپس جانے پر مجبورکرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ہمیں ڈرایا دھمکایا جاتاتھا لیکن رواں سال یہ سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے، یہاں تک کہ ہمیں کھانے پینے اور دیگر ضروری اشیا ء خریدنے کے دوران بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا کرائے کے کمروںسے باہر نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔کشمیری تاجروں کو اپنی علاقائی شناخت اور بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کی وجہ سے بدسلوکی، جسمانی تشدد اور سماجی بائیکاٹ کا سامنا ہے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ2014میں نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اس طرح کے کشمیر دشمن اور فرقہ وارانہ واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔







