مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز کی کارروائیوں ، مظالم میں تیزی

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج ، پیراملٹری فورسز اورپولیس نے منگل کو سرینگر میں اہم تنصیبات کے گرد بڑے پیمانے پر تلاشی کی کارروائیاں کیں جبکہ ضلع اسلام آباد کے جنگلاتی علاقوں میں بھی تلاشی کی کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ قابض حکام نے ان کارروائیوں کو احتیاطی تدابیر قراردیاہے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں جابرانہ اقدام ہیں اوریہ ایک معمول بن چکا ہے۔بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے پہلگام حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں ضلع اسلام آباد کے علاقے سالیہ میں چھاپے مارے۔ این آئی اے کی ایک ٹیم نے کئی گھروں کی تلاشی لی۔ مقامی لوگوں نے بتایاکہ آپریشن کے دوران بھاری تعداد میں بھارتی فورسز کوتعینات کیاگیا تھااور نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔ بھارتی پیراملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس اورپولیس نے جھیل ڈل کے اطراف میں سیاحتی مقامات سمیت سرینگر میں متعدد مقامات پر گاڑیوں اورمسافروں کی تلاشی لینے کا عمل تیز کردیا ہے ۔ سرینگر کے اہم داخلی اور خارجی راستوں پر چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔ بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ سخت چوکسی، گشت میں اضافے اوربھاری تعداد میں فورسز اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد نام نہاد یوم جمہوریہ کی تقریبات سے قبل کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کو روکنا ہے۔ تاہم سول سوسائٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز کی مسلسل کارروائیاں خاص طور پر سیاسی تقریبات سے پہلے اجتماعی سزا کے مترادف ہیں اوران سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوتی ہے۔بڑے پیمانے پر کارروائیوں، چھاپوں اور مسلسل تلاشی سے پوری وادی میں معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے ہیں جس سے سیکورٹی کی آڑ میں خطے میں جاری فوجی مظالم کی عکاسی ہوتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button