بنگلور ومیں مسلمانوں اور دلتوں کے 200مکانات مسمار کرنا غیر انسانی عمل ہے : مفتی اعظم بھارت

نئی دہلی : بھارت کے مفتی اعظم شیخ ابوبکر احمد نے بنگلورو میں میں مسلمانوں اوردلتوں کے تقریبا 200مکانات منہدم کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مفتی اعظم نے اس کارروائی کو غیر انسانی اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ معاشی طور پر پسماندہ مسلمان اور دلت خاندانوں کو شدید سردی کے موسم میں بے گھر کر دیا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ رہائش ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے اورکوئی متبادل پناگاہ فراہم کیے بغیرگھروں کو مسمار کرنا انصاف اور ہمدردی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بھی کارروائی مناسب وقت دینے، انسانی ہمدردی کی بنیادپر تحفظات کو دورکرنے اور مناسب معاوضہ فراہم کرنے اور بحالی کو یقینی بنانے کے بعد ہی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا جنہوں نے نہ صرف اپنے گھر بلکہ ذریعہ معاش اور ضروری دستاویزات بھی کھو دی ہیں۔شیخ ابوبکر احمد نے کرناٹک کے وزیر اعلی اور دیگر متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ مناسب زمین کی نشاندہی کریں اور تمام بے گھر خاندانوں کے لیے رہائش کی سہولیات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مستقل بحالی کا انتظام نہیں کیا جاتا، حکومت کو بے گھر ہونے والوں کو عارضی پناہ گاہیں اور ضروری سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔مفتی اعظم کی ہدایت کے بعد بنگلورو میں مسلمان رہنمائوں نے امدادی سرگرمیاں تیز کردیں۔مفتی اعظم نے امید ظاہر کی کہ کرناٹک حکومت ایک انصاف پسند، انسانی اور ہمدردانہ رویہ اپنائے گی اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مسماری سے بھارت میں اقلیتوں اور پسماندہ طبقوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی ہوتی ہے۔








