آزاد کشمیر

جے شنکر اور ایاز صادق کے درمیان مصافحہ پاک بھار ت تعلقات میںنئے آغاز کی بنیاد بن سکتا ہے ، سردار مسعود

اسلام آباد:امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے درمیان غیر متوقع مگر بامقصد مصافحہ اور مسکراہٹوں کا تبادلہ پاک بھارت تعلقات میں ممکنہ ری سیٹ کی بنیاد بن سکتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سردار مسعود خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں پاک بھارت تعلقات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اعلی ترین سیاسی سطح پر اس نوعیت کے اشارے عموما اتفاقیہ نہیں ہوتے، بالخصوص ایسے دو ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان جن کی تاریخ کشیدگی اور عدم اعتماد سے بھری ہے۔یہ ملاقات یا تو سوچے سمجھے سفارتی عمل کا حصہ ہے یا پھر پسِ پردہ رابطوں کی ایک طویل کوشش کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وزیر خارجہ کی جانب سے، جنہوں نے ماضی میں مصافحہ کرنے سے انکار کیا، آگے بڑھ کر پاکستان کے اسپیکر سے رابطہ کرنا اور خیر سگالی کا اظہار کرنا معمول کا سفارتی عمل نہیں بلکہ سیاسی طور پر بامعنی قدم ہے۔انہوں نے اسپیکر سردار ایاز صادق کو مفاہمت پسند اور باوقار سیاستدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شائستگی اور رابطے استوار کرنے کی شہرت نے ممکنہ طور پر بھارتی وزیر خارجہ کو اس اقدام پر آمادہ کیا۔ مسعود خان نے کہا کہ بھارت اس وقت شدید سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔ بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور مالدیپ کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں تنائو بڑھ گیا ہے جبکہ داخلی سیاسی تقسیم اور سخت گیر بیانیے نے سفارت کاری کی گنجائش کم کر دی ہے۔ ایسے ماحول میں نئی دلی پاکستان کے ساتھ مخاصمت کی قیمت اور کم از کم قابلِ عمل تعلقات کی افادیت پر نظر ثانی کر رہا ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنے ہمسایہ ممالک سے کٹ کر معاشی یا تزویراتی ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو صدیوں ساتھ رہنا ہے، اس لیے مکالمے اور تنازعات کے حل کے راستے تلاش کرنا ضروری ہے ۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ عالمی طاقتیں طویل عرصے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطوں کی حوصلہ افزائی کرتی آ رہی ہیں۔ امریکا، چین اور روس نے مئی کی جنگ کے دوران کشیدگی کم کرنے میں خاموش کردار ادا کیا اور بعد ازاں دونوں ممالک کو بات چیت کی طرف واپس آنے کا مشورہ دیاتھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق امریکی صدر، سینئر امریکی قانون سازوں اور علاقائی رہنمائوں نے بھی مذاکرات پر زور دیا، خصوصا مسئلہ کشمیرکے حل کو جنوبی ایشیا کے طویل المدتی استحکام کے لیے ناگزیر قراردیا۔ سردار مسعود خان نے کہاکہ پاکستان نے بارہابھارت کے ساتھ تنازعات کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں اور یہ مصافحہ اسی تسلسل کا حصہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے بھی بھارت اور پاکستان دونوں کو بارہا پیغام دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں استحکام سب کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ انہوں نے بھارت اور چین کے درمیان اعلیٰ سطح پر حالیہ سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اب طویل محاذ آرائی اور بیرونی مداخلت کی قیمت کو بہتر طور پر سمجھنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی بڑی حد تک برقرار ہے، جس کی ایک وجہ امریکی سفارتی ضمانتیں اور دونوں اطراف کی جانب سے کشیدگی کے خطرات کا ادراک ہے۔ تاہم مسعود خان نے کہاکہ بھارت کے سخت نظریاتی موقف، اندرونی سیاسی ماحول اور بالخصوص کشمیر سے متعلق ماضی کے یکطرفہ اقدامات جامع امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بات چیت تاخیر کا شکار ہے ، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ آیا بھارت خودمختاری کے اصولوں اور باہمی احترام کی بنیاد پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2025میں بھارت کے ساتھ جنگ میں فتح کے بعد پاکستان کو دوبارہ سفارتی اہمیت اور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button