مودی کے بھارت میں اقلیتیں منظم تشدد کا شکار ہیں،”وال سٹریٹ جرنل“

واشنگٹن: معروف امریکی اخبار “ وال سٹریٹ جرنل‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی اقلیت بھی بدترین صورتحال کا شکار ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ا خبار نے نریندر مودی کی سربراہی میں قائم ”بی جے پی“ حکومت کی قلعی کھولتے ہوئے لکھا کہ بھارت کا ہندوتوا مشن عالمی سطح پر شرمندگی کا سبب بن گیا ہے۔اخبار نے لکھا ہے کہ مودی حکومت فاشسٹ ہے، وہ صرف ہندو اکثریت کی ترجمان ہے۔ بی جے پی حکومت اقلیتوں سے مذہبی اور نسلی امتیاز برت رہی ہے۔نریندر مودی کے دور میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں خطرناک اضافہ ہوا۔ 2014 کے بعد مودی کے بھارت میں مسلمان رہائش، ملازمت، تعلیم اور ووٹ کے حق تک امتیاز کا شکار ہیں۔ بھارت کا سیکولر دعویٰ بے نقاب ہو چکا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ صرف 2.3 فیصد آبادی ہونے کے باوجود عیسائی بھی ہندوتوا تشدد کی زد میں ہیں، 2025 میں 706 اینٹی کرسچن واقعات ریکارڈ ہوئے۔گرجا گھروں پر حملے، عبادات پر تشدد، کرسمس کی علامتوں کی توڑ پھوڑ ہوئی مگر مودی دانستہ خاموش رہا۔ مودی کا حملوں کی مذمت نہ کرنا شدت پسند ہندو عناصر کے لیے واضح سرکاری اشارہ ہے کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں۔ اینٹی کنورڑن قوانین، جانبدار ریاستی رویہ اقلیتوں کے خلاف تشدد کو عملی تحفظ فراہم کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں سیکولر ازم اب محض ایک علامتی نعرہ ہے جبکہ اقلیتیں پورے ملک میں منظم تشدد کا شکار ہیں۔مودی کا بھارت فل کلاس جمہوریت نہیں، فل کلاس اکثریتی ریاست بن چکا ہے۔ بھارت میں خوف اقلیتوں کی شناخت بن گیا ہے۔ نریندر مودی کے دور میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد معمول بنتا جا رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2025 میں بھارت میں کرسمس مذہبی انتہاپسندی کا قومی فلیش پوائنٹ بن گیا۔






