بھارت

عمر خالد کے نام ظہران ممدانی کے خط پر بی جے پی تلملا اٹھی

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی جانب سے جیل میں نظربند طالب علم رہنما عمر خالد کو لکھے گئے خط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت اپنے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بی جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیہ نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہااگر کوئی کسی ملزم کی حمایت کرتا ہے اور بھارت کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرتا ہے تو بھارت اسے برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ باہری شخص ہماری جمہوریت اور عدلیہ پر سوال اٹھانے والا کون ہوتاہے؟ وہ بھی کسی ایسے شخص کی حمایت میں جو بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے؟ یہ ٹھیک نہیں ہے جب بات بھارت کی خودمختاری کی ہو گی تو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں 140کروڑ بھارتی اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق رہنما عمر خالدجو 2020کے دہلی فسادات سے متعلق ایک کیس کے سلسلے میں جیل میں ہیں، کے نام ہاتھ سے لکھے ایک خط میں ظہران ممدانی نے کہا کہ وہ اکثر تلخی پر خالد کے خیالات کے بارے میں سوچتے ہیں۔پیارے عمر سے مخاطب کیا گیا یہ خط خالد کے والدین کو دسمبر 2025میں ان کے امریکہ کے دورے کے دوران دیا گیا تھا۔ یہ خط جمعرات کو منظرعام پر آگیا،اسی دن جب بھارتی نژاد ممدانی نے نیویارک کے میئر کے طور پر حلف اٹھایا۔ بی جے پی ترجمان بھاٹیہ نے کہا کہ بھارت اس طرح کی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔ خالد کی ساتھی بنجیوتسنا لاہری کی جانب سے ایکس پر شیئر کیے گئے خط میں لکھا ہے میں اکثر کرواہٹ پرآپ کے الفاظ اور اسے اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دینے کی اہمیت کے بارے میں سوچتا ہوں۔ آپ کے والدین سے ملنا خوشی کی بات تھی، ہم سب آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔لاہری نے بتایا کہ خالد کے والدین صاحبہ خانم اور سید قاسم رسول الیاس خاندان میں ہونے والی ایک شادی سے قبل اپنی بیٹی سے ملنے امریکہ گئے تھے۔سید قاسم رسول الیاس نے انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا ہم نے 9 دسمبر کو اپنے امریکہ کے دورے کے دوران ممدانی سے ملاقات کی تھی اس سے قبل(2023میں) ہم نے انہیں عمر کی ڈائری سے ایک خط پڑھتے ہوئے سنا تھا اور ہم ان سے ملنا چاہتے تھے، انہوں نے ہمیں 25منٹ کا وقت دیا، ملاقات کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ وہ عمر کے ساتھ ایک خط شیئر کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے جانے سے پہلے چند سطریں لکھیں۔انہوں نے کہا کہ جب عمر اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے چند دنوں کے لیے گھر آیا تو ہم نے اسے خط دکھایا۔ عمر خالد کو بہن کی شادی میں شرکت کے لیے دو ہفتے کی عبوری ضمانت دی گئی تھی۔
ادھرامریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے بھی امریکہ میں مقیم بھارتی سفیر ونے کواترا کو ایک خط لکھ کر عمر خالد کی ضمانت اور بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ اور بروقت ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی نمائندے جم میک گورن اور جیمی ریسکن ان آٹھ قانون سازوں میں شامل ہیں جنہوں نے سفیر کواترا کو خط لکھ کرفروری 2020کے دہلی تشدد سے متعلق مقدمات میں ملزمان کی طویل نظربندی پرتشویش کا اظہار کیا ہے جن میں عمر خالد بھی شامل ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button