مقبوضہ جموں وکشمیر میں وی پی این کا استعمال جرم بن گیا،مزید 800افرادکوکریک ڈائون کا سامنا

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں قابض حکام نے آزادی اظہار اور ڈیجیٹل پرائیویسی پر ایک اور حملہ کرتے ہوئے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs)کا استعمال کرنے والے تقریبا 800افراد کی نشاندہی کی ہے جن کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض حکام نے عوامی تحفظ، سائبر سیکورٹی اور امن و امان کی آڑ میں وادی کشمیر میں وی پی این سروسز کے استعمال پر دو ماہ کی مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندی سے ڈیجیٹل ٹولزکا استعمال جرم بنایا گیا ہے جنہیں کشمیری سخت نگرانی کے ماحول میں معلومات تک رسائی، محفوظ طریقے سے بات چیت کرنے اوراظہار رائے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔بھارتی پولیس حکام نے اعتراف کیا کہ پوری وادی میں بڑے پیمانے پر نگرانی اور تصدیقی عمل شروع کیاگیاہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں انٹرنیٹ صارفین کی شناخت کی جا رہی ہے۔ بڈگام، شوپیاں اور سوپور جیسے علاقوں میں پولیس نے لوگوں کو جن میں سے زیادہ تر نوجوان ہیں، محض اپنی آن لائن پرائیویسی کے تحفظ کی کوشش کرنے پر تکنیکی جانچ، پس منظر کی تصدیق اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا۔ متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور قانونی کارروائی شروع کی گئی جبکہ درجنوں افراد کو طلب کیا گیا، ان سے پوچھ گچھ کی گئی ، ڈرایادھمکایاگیااور ان پر نفسیاتی دبا ئوڈالا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ وی پی این کے استعمال کو دہشت گردی کے الزامات سے جوڑنے کا مقصد عام کشمیریوں کو بدنام کرنا اورظلم و جبرکے لئے جواز پیداکرنا ہے۔شہری آزادیوں کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ وی پی این پر پابندی بھارت کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتی ہے جن میںکشمیر کے لئے ڈیجیٹل رسائی کو بند کرنا، آزادانہ سوچ کو دبانا، متبادل بیانیہ تک رسائی کو روکنا اور ریاست کے زیر کنٹرول انفارمیشن چینلز کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرنے والوں کو سزا دیناشامل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آزادی اظہار، معلومات تک رسائی اور رازداری کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اسے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اختلاف رائے کے حوالے سے بھارت کی بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی عکاسی ہوتی ہے۔ جموں خطے کے مختلف علاقوں میں بھی اسی طرح کی پابندیاں عائد کی گئی ہیںجس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل کریک ڈائون کوجموں خطے تک بڑھایاگیا ہے۔






