پاکستان کا کشمیریوں کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد:
پاکستان نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے جمعرات کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہاکہ کشمیری عوام نے رواں ہفتہ 5 جنوری کو یوم حق خودارادیت منایا گیا۔انہوں نے واضح کیاکہ بھارت کشمیری قیادت کو جبری طور پر خاموش کرانے کی کوشش کررہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہزاروں کشمیری قائدین ہندوستانی جیلوں میں قید ہے، 5 اگست 2019کو بھارت نے یکطرفہ طورپر جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کردی تھی ۔ترجمان دفترخارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ کے بے بنیاد بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ بھارت کا ریکارڈ ہے کہ وہ خطے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ بھارت کے پاکستان پر الزامات کے ذریعے اپنے امن دشمن اقدامات کو چھپا نہیں سکتا، بھارت کو دوسروں پر تنقید کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں فیض الہی مسجد اور ملحقہ جائیدادوں کا انہدام بھارت کے مسلم کش اقدامات کی مہم کا حصہ ہے۔ یہ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت اور بعد ازاں وہاںمندر کی تعمیر کا تسلسل ہے اور اقلیتوں کے خلاف بھارتی نفرت انگیز ہندوتوا مہم کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے نائب وزیراعظم نے چین کا دورہ کیا اور پاک چین اسٹریٹجک مذاکرات کیے، مذاکرات کے بعد فریقین نے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا۔ پاکستان چین کی قومی وحدت کے حصول کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے، جبکہ مذاکرات میں پاکستان نے چین کو جموں و کشمیر کے مسئلے سے آگاہ کیا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ چین نے مسئلہ کشمیر کو تاریخ کا ایک حل طلب مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے حل پر زور دیا۔








