جنیوا :اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 60واں اجلاس، بھارت کی انسانی حقوق کی بدترین ناکامیاں بے نقاب
جنیوا:
جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 60ویں اجلاس میں بین الاقوامی این جی اوز نے بھارت کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ریاستی غفلت پر کڑی تنقید کی ہے ، جس سے بھارت کے سیکولر اور جمہوری ملک ہونے کے دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 60ویں اجلاس میں سوسائٹی فار ڈیولپمنٹ اینڈ کمیونٹی ایمپاورمنٹ نے بھارت کے سیکولر اور جمہوری ملک ہونے کے جھوٹے دعوئوں کوبے نقاب کرتے ہوئے 27ستمبر کوریاست تمل ناڑو ایک سیاسی ریلی کے دوران پیش آنے والے المناک حادثے کاحوالہ دیا ، جہاں ریاستی غفلت اور لاپرواہی کے نتیجے میں 41افرادہلاک اور100سے زائد شدید زخمی ہوگئے۔ اس افسوسناک واقعے سے ثابت ہو تاہے کہ بھارتی حکومت اقتدار کے نشے میں چور ہے اور اسے عوام کی جان و مال کی کوئی پرواہ نہیں ۔ انٹرنیشنل ایکشن فار پیس اینڈ سسٹینیبل ڈیولپمنٹ نے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔تنظیم نے کہاکہ سب سے بدتر صورتحال مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہے، جہاں بھارت نے غیر قانونی قبضے کی بدترین مثال قائم کر رکھی ہے۔ مسلمانوں پر ریاستی جبر، بلا جواز گرفتاریاں، جھوٹے مقدمات اور مذہبی آزادیوں پر وحشیانہ حملے اس بات کاواضح ثبوت ہیں کہ بھارت کی جمہوریت صرف ایک نقاب ہے جبکہ اصل حقیقت ظلم و استبداد کا راج ہے۔یہ واقعات بھارت کے سیکولر اورجمہوری ملک ہونے کے دعوئوں اور مذہبی، سیاسی اور شہری آزادیوں پر منظم حملوں کوبے نقاب کرتے ہیں۔جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر(Palais des Nations)میں پیش کی گئی این جی اوز کی رپورٹس میں عالمی سطح پر بھارت کے آمرانہ رویے، ظلم و جبر اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیاگیاہے، جس سے بھارت کی عالمی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔







