ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں تمام مطلوبہ سہولیات میسر ہیں، بندش کا فیصلہ بلا جوازہے، طلبا
”این ایم سی “ نے کالج بند کرنے کا فیصلہ بی جے پی رہنماﺅں کے دباﺅ میں کیا ، کانگریس ترجمان

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے طلباءنے ادارے کی بندش پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے قطعی طور پر ایک بلا جواز اقدام قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق طلباءنے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی )کیطرف سے ویشنو دیوی میڈیل کالج کا اجازت نامہ منسوخ کیے جانے کے اقدام سے وہ شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے کالج کی بندش کی جو وجوہات بتائی ہیںان میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کالج میں طبی تعلیم کیلئے تمام مطلوبہ سہولیات موجود ہیں اور کلاس رومز ، لیبارٹیز اور دیگر بنیادی ضروریات پوری طرح سے میسر ہیں ۔ جموںخطے کے ضلع ریاسی میں قائم ویشنو دیوی میڈکل کالج کی پہلی کھیپ میں 42مسلمان طلباءنے میرٹ پر داخلہ حاصل کیا تھا جس پر ہندو توا تنظیمیں سیخ پاہوگئیں اور سڑکوں پر آکر مظاہرے کیے۔ بھارت کے نیشنل میڈیکل کمیشن نے اب کالج میں مطلوبہ سہولیات کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر اسکا اجازت نامہ ہی منسوخ کر دیا ہے اور یوں اس نے ہندو توا تنظیموں کے بلاجواز احتجاج کے آگے ہتھیار ڈالے ۔ دریں اثنا انڈین نیشنل کانگریس کی ترجمان شمع محمد نے بھی ایک بیان میں کالج بند کرنے کے بھارت کے نیشنل میڈیکل کمیشن(این ایم سی) کے اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی بھارتیہ جنتا پارٹی کے متعصب رہنماوں اور دائیں بازو کے گروہوں کے دباو میں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ این ایم سی کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے تھا کہ 42 مسلم طلباءنے تمام مقررہ معیارات پر پورا ترتے ہوئے کالج میں داخلہ حاصل کیا۔ شمع محمد نے کہا کہ این ایم سی نے میرٹ پر آنے والے مسلم طلباءکو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے انہیں میڈیکل کی تعلیم سے دور رکھنے کیلئے قطعی طور پر ایک امتیازی فیصلہ کیا جو انتہائی افسوسناک ہے۔





