مضامین

اجیت دوال کے "تاریخ کا بدلہ لینے” کا بیان بذات خود تاریخ کو مسخ کرنے کی بھونڈی حرکت

محمد شہباز

بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال نے 11جنوری کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں "وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ” (Viksit Bharat Young Leaders Dialogue)کے زیر عنوان افتتاحی تقریب کے دوران کہا کہ بھارت کو نہ صرف فوجی، اقتصادی، بلکہ سماجی طور پر بھی مضبوط ہونا چاہیے تاکہ "تاریخی تلخ واقعات کا بدلہ لیا جا سکے۔اجیت دوال نے بھارت پر ماضی کے حملوں اور غلامی کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو نہ صرف سرحدوں پر اپنی فوجی طاقت کو بڑھانا چاہیے بلکہ ہر شعبے میں اپنی حیثیت کو مستحکم کرنا چاہیے تاکہ "تاریخ کا بدلہ” لیا جا سکے۔اجیت دوال کا یہ بیان بھارت کے اندر موجود ایک خاص ذہنیت کی نمائندگی کرتا ہے جو کہ ہندو انتہاپسندوں کیلئے مزید تقویت کا باعث ہے، یہ بیان پاکستان کے قیام کو مسترد کرنے اور 2025 میں پاکستان کے ہاتھوں ممکنہ شکست پر غم و غصہ کی بنیاد پر تشکیل پایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "انتقام” ایک قومی پالیسی کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے، اگرچہ وہ خود اس لفظ کو اچھا نہیں مانتے۔ ان کے مطابق، "انتقام” ایک ایسا محرک ہو سکتا ہے جو بھارت کی سیاسی حکمت عملی کو چلانے میں اہم کردار ادا کرے۔ماہرین اس بیان کو بھارتی حکومت کی بیمار ذہنت کی عکاسی کے طور پر دیکھتے ہیں جو پاکستان کیساتھ اپنے تعلقات کو مزید تنائو یا بگاڑ میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ اجیت دوال نے اپنی تقریر میں ایک طاقتور قیادت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نریندر مودی کو ایک مثالی قائد کے طور پر بھی پیش کیا، اور نیپولین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ایک شیر کا ایک ہزار بھیڑوں کی قیادت کرنا زیادہ خطرناک ہوتا ہے، بجائے اس کے کہ ایک ہزار شیر ایک بھیڑ کی قیادت کریں۔” اس بیانیے کا مقصد بھارت کی موجودہ حکومت کی طاقتور قیادت کی حکمت عملی کو اجاگر کرنا ہے، جس میں ماضی کی شکستوں سے انتقام کی بنیاد پر نئے منصوبے تشکیل دیے جا رہے ہیں۔

بھارت کی سیاست اور اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں حالیہ برسوں میں ایک نئی پیچیدگی یا تنازعات نے جنم لیا ہے، خاص طور پر پاکستان اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تنازعات نے شدت اختیار کرلی ہے۔اسی تناظر میں اجیت دوال کے بیانات نے نہ صرف بھارت کے داخلی معاملات میں ایک ارتعاش پیدا کیا ہے بلکہ اس نے عالمی سطح پر بھی بھارت کی سیاست اور اس کے ہمسایہ ممالک کیساتھ تعلقات پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔اجیت دوال کا بیان بھارت کی موجودہ حکومتی پالیسی اور اس کے بین الاقوامی تعلقات پر کیا اثرات مرتب کر سکتا ہے،یہ آنے والے کل میں تو ظاہر ہوں گے ہی۔البتہ اس بیان نے خود بھارت کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔بھارت کی سرکردہ صحافی اور ویب نیوز پورٹل” دی وائر” کی ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی نے اجیت دوال کے بیان پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:ذرا سوچیے، اگر اتنا غیر محفوظ انسان نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جیسے عہدے پر بیٹھا ہو تو کیا حال ہوگا۔وہیں مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت نواز پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے اجیت دوال کے حالیہ بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بھارتی مسلمانوں کے خلاف نفرت اور مذہبی تعصب کی جانب ایک سنگین اشارہ قرار دیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے اس بیان کو افسوسناک اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات ایک ایسے شخص کی طرف سے آ رہے ہیں جو بھارت کی داخلی اور خارجی سلامتی کی ذمہ داری پر فائز ہے، اور جس کا فرض ہے کہ وہ قوم میں ہم آہنگی، بھائی چارہ اور امن کی فضا قائم کرے، نہ کہ مذہبی نفرت اور تقسیم کو بڑھاوا دے۔محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ دوال کا یہ بیان نہ صرف بھارت کے مسلمانوں کے خلاف ایک خطرناک منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ یہ بھارت کی موجودہ حکومت کی ہندوتوا پالیسی کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد میں ملوث ہے۔ محبوبہ مفتی کے بقول اجیت دوال کا "تاریخ کا بدلہ لینے” کا مطالبہ نہ صرف ایک غیر ذمہ دارانہ بیان ہے بلکہ یہ ایک نیا سیاسی ہتھیار بن چکا ہے، جس کا مقصد کم تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر پسے ہوئے ہندوتوا طبقوں کو خاص طور پر مسلمانوں کی کمزور اقلیتی برادری کے خلاف بھڑکانا ہے، ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ بیان "صدیوں پرانے واقعات کا بدلہ لینے” کی بات کرتے ہوئے 21ویں صدی کے ماحول میں بالکل غیر متعلق اور متنازعہ ہے، اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومتی پالیسیوں میں مذہب کی بنیاد پر تفریق اور تقسیم کی کوششیں آج بھی کی جارہی ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بیانات بھارت میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور سماجی انتشار کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ ان کا مقصد ایک خاص طبقے کے افراد کو دوسرے طبقے کے خلاف اکسانا ہے، جس سے پورے معاشرے کی نام نہاد ہی سہی ہم آہنگی ختم ہو سکتی ہے۔محبوبہ مفتی نے یہ بھی کہا کہ دوال کا یہ اشتعال انگیز بیان بھارت کے ایک مضبوط جمہوری ملک ہونے کے دعوے کی حیثیت پر سوالات بھی اٹھاتا ہے، کیونکہ ایک ریاستی ادارے کے اعلی عہدیدار کا اس طرح کا بیان قومی مفاد کے بجائے صرف فرقہ وارانہ تقسیم کو فروغ دینے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت اپنے سیاسی مقاصد کیلئے اقلیتی گروپوں کے خلاف متعصب اور اشتعال انگیز بیانات کا سہارا لے رہی ہے، جو کہ کسی بھی جمہوری معاشرتی نظام کے تانے بانے کیلئے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے آواز بلند کرے، اور اس بات کو یقینی بنائے کہ بھارت میں مذہبی اور نسلی ہم آہنگی کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا آئین اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے، اور اس نوعیت کے بیانات اس آئینی اصول کے خلاف ہیں، جو بھارت کو ایک جمہوری اور سیکولر ملک کے طور پر قائم رکھتا ہے۔

اجیت دوال بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر، ایک اہم حکومتی عہدے پر فائز ہیں اور ان کے بیانات بھارت کی خارجہ پالیسی اور داخلی صورتحال کی عکاسی اور اسے عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اجیت دوال کا یہ بیان نہ صرف بھارت کی داخلہ پالیسی کا پیش خیمہ ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔اجیت دوال کی جانب سے "تاریخ کا بدلہ لینے” کی بات بھارت کی موجودہ سیاست کے انتقامی پہلو کو بھی واضح کرتی ہے، جو پاکستان کیساتھ تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔پاکستان کیساتھ بھارت کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں، بالخصوص مسئلہ کشمیر،جو دونوں ممالک کے درمیان مسلسل جنگوں ،کشیدگی اور دشمنی کی بنیادی وجہ ہے ۔ دوال کے بیانات میں جارحیت اور انتقام کی ضرورت پر زور دینے سے بھارت کے پاکستان کیساتھ تعلقات مزید تنا ئو کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بھارتی حکومت کی یہ پالیسی بھارت کے داخلی و بیرونی تعلقات کو مزید متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتی، خاص طور پر جب مودی حکومت کے زیر اثر بھارت کی خارجہ پالیسی کا رخ پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کیلئے زیادہ جارحانہ ہو سکتا ہے۔

بھارت نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا،خاصکر موجودہ بھارتی حکمران ٹولہ ،جس نے ہندو انتہا پسند گروہ آر ایس ایس کی کوکھ سے جنم لیا ہے،اس کی رگ و پے میں پاکستان دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہے اور اجیت دوال کا بیان اسی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے اور یہ بیان پاکستان کے الگ مملکت کے معرض وجود میں آنے سے متعلق ہی ہے،جو کہ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ اجیت دوال کا تاریخ سے بدلہ لینے کا بیان کیا معنی رکھتا ہے؟ یہ سوالیہ نشان ضرور ہے اور ماہرین اسے کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی سے تشبیہ دیتے ہیں۔گوکہ اجیت دوال نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ تاریخ کا بدلہ لینے سے مراد لاشوں کے ڈھیر یا انبار لگانا مقصد نہیں بلکہ ممالک کو حصے بخرے کرنا ہے۔یہ بیان تاریخ کو بذات خود مسخ کرنے کی بھونڈی حرکت ہے۔بھارتی حکمران ٹولہ اکثر و بیشتر بنگلہ دیش کا حوالہ دیتے تھے ،لیکن بنگلہ دیش کی صورتحال نے 190ڈگری کا زوایہ لیا ہے،جس بنگلہ دیش کو بھارت اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرتا تھا،آج وہ بنگلہ دیش بھارت کیلئے درد سر بن چکا ہے۔جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی قربت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ بھلے ہی وہ دو الگ ممالک ہیں ۔لیکن ان کی رگوں میں ایک ہی مملکت کا خون دوڑتا ہے۔ بنگلہ دیش کی جس آزادی کا مودی جیسا فسطائی فخریہ انداز میں ذکرکرتا تھا،آج اس مودی کا بنگلہ دیش میں کوئی نام لیوا نہیں اور اس کا نام حقارت سے بھی نہیں لیا جاتا ہے۔بلاشبہ پاکستان ا ور بنگلہ دیش آج یک جان دو قالب ہیں۔ایسے میں اجیت دوال کی بوکھلاہٹ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔

اجیت دوال کے بیان سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس صورتحال میں نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، بلکہ خطے میں پہلے سے بگڑتی ہوئی صورتحال بھی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔گزشتہ برس مئی میں بھارت کو جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں جس ہزیمت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اس نے عالمی سطح پر بھارت کی خارجہ پالیسی کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے،اجیت دوال کا بیان عالمی امن کے اصولوں اور انسانی حقوق کے منافی ہے۔ ایسے میں پاکستان اور پوری دنیا اس بیان کو کیونکر ٹھنڈے پیٹوں برداشت کریں گے۔یہ بیان جہاں فوری توجہ طلب ہے وہیں پوری دنیا کیلئے دعوت فکر بھی ہے کہ مودی کا مشیر جب یہ کہے کہ تاریخ کا بدلہ لینا ہے،تو اس بیان کو نظر انداز کرنا تاریخ کیساتھ کھلواڑ ہوگا۔اجیت دوال کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ایسے جنونی کا احتساب ناگزیر ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button