مضامین

پہلگام واقعہ: بھارتی تحقیقات، جھوٹا بیانیہ اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو بدنام کرنے کی منظم کوشش

تحریر: حبیب اللہ شیخ
پہلگام واقعے پر بھارت کی جانب سے پیش کی گئی نام نہاد تحقیقات ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں کہ بھارتی ریاست اور اس کے تحقیقاتی ادارے کشمیر میں سچ تلاش کرنے کے بجائے پہلے سے طے شدہ سیاسی بیانیے کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ آٹھ ماہ کی طویل تاخیر کے بعد نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے پیش کی گئی 1597 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ شواہد کے انبار کے بجائے الزامات، قیاس آرائیوں اور جبری اعترافات کا مجموعہ نظر آتی ہے۔

یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ اتنی طویل تفتیش کے باوجود بھارتی ایجنسیاں کوئی ایک بھی ایسا قابلِ تصدیق اور ناقابلِ تردید ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہیں جو ان کے دعوؤں کو قانونی اور اخلاقی جواز فراہم کر سکے۔ اس کے برعکس، پوری چارج شیٹ کا دارومدار تین غریب کشمیری چرواہوں کے مبینہ اعترافی بیانات پر رکھا گیا ہے، جن کے بارے میں سنجیدہ الزامات موجود ہیں کہ انہیں شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی بیانات دلوائے گئے۔

بھارتی تحقیقاتی اداروں کی ساکھ اس وقت مزید مشکوک ہو جاتی ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سرچ آپریشنز کے دوران تین بے گناہ شہریوں کو قتل کر کے بعد ازاں انہیں ’’پاکستانی شہری‘‘ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ اس دعوے کی بنیاد مبینہ پاکستانی ووٹر کارڈز کو بنایا گیا، حالانکہ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کو کسی قسم کا ووٹر آئی ڈی کارڈ جاری ہی نہیں کرتا۔ اس جھوٹے دعوے نے بھارتی تفتیشی نظام کی غیر سنجیدگی اور بدنیتی کو خود ہی بے نقاب کر دیا ہے۔

اسی طرح 22 جون کو گرفتار کیے گئے پرویز احمد اور بشیر احمد کے کیسز میں بھی شفاف عدالتی کارروائی کے بجائے نام نہاد اعترافات کو ’’گودی میڈیا‘‘ کے ذریعے نشر کر کے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ قانونی ماہرین کے مطابق تشدد اور پولیس حراست میں لیے گئے اعترافات پر مبنی کوئی بھی مقدمہ بین الاقوامی قوانین اور انصاف کے بنیادی اصولوں پر پورا نہیں اترتا اور عدالتی جانچ پڑتال میں برقرار نہیں رہ سکتا۔

پہلگام واقعے کے فوراً بعد بھارتی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا آغاز اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت کا اصل مقصد حقائق تک پہنچنا نہیں بلکہ ایک بار پھر تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو ’’دہشت گردی‘‘ کے ساتھ جوڑ کر عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔ بھارت کی یہ پرانی روش رہی ہے کہ وہ کشمیری عوام کی جائز اور اقوامِ متحدہ سے تسلیم شدہ جدوجہدِ آزادی کو بدنام کرنے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتا ہے۔

اس کے برعکس، پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پہلگام واقعے کی شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش کی، جسے بھارت نے مسترد کر دیا۔ یہ انکار خود اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارت سچائی سے خوفزدہ ہے، کیونکہ غیر جانبدار تحقیقات اس کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کر سکتی ہیں۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دیتی ہیں، جسے بھارت آج تک ماننے سے انکاری ہے۔ 5 اگست 2019 کے بعد آرٹیکل 370 کی منسوخی اور آبادیاتی تبدیلیوں جیسے اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

پہلگام واقعہ اور اس پر بھارتی تحقیقات دراصل ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہیں، جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانا اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو طاقت کے زور پر کچلنے کے لیے جواز پیدا کرنا ہے۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ جھوٹ، جبر اور پروپیگنڈے کے ذریعے کسی قوم کی آزادی کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کشمیری عوام کے اقوامِ متحدہ سے تسلیم شدہ، ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا واحد راستہ یہی ہے کہ مسئلۂ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کیا جائے، نہ کہ جھوٹے مقدمات اور من گھڑت تحقیقات کے ذریعے سچ کو دبانے کی کوشش کی جائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button