مضامین

مقبوضہ کشمیر: آبادیاتی تطہیر کے ساتھ ساتھ آبادیاتی حصہ داری سے انکار

تحریر:ارشد میر

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ریزرویشن اور بھرتی کی پالیسیاں عرصے سے تنازعہ کا محور رہی ہیں۔ خصوصاً خطے کی سماجی اور سیاسی حرکیات کے پیش نظر آبادی کے تناسب کے مقابلے میں بھرتی کے اعداد و شمار میں نمایاں تفاوت ایک واضح علامت ہےجو مقبوضہ وادی کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف منظم امتیاز کو ظاہر کرتی ہے۔ وادی کشمیر کی 62 فیصد آبادی کے باوجود سرکاری نوکریوں اور پروفیشنل ڈگریوں میں اس کا حصہ محض 33 فیصد ہے جبکہ ہندو اکثریتی جموں، جس کی آبادی 38 فیصد ہے، ان مواقع کا 67 فیصد کنٹرول کرتی ہے۔ یہ 34 فیصد کا فرق محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی ہے جو کشمیری مسلمانوں میں بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور پیشہ ورانہ رکاؤٹ کو یقینی بنانے کے لیے وضع کی گئی ہے۔

ریزرویشن کے کوٹےSC, OBC, ST, ALC/IB, RBA اور EWSبھی غیر متناسب طور پر ہندو اکثریتی جموں کے حق میں رکھے گئے ہیں جس سے خطے میں عدم توازن مزید بڑھ گیا ہے۔ مثال کے طور پر، شیڈیولڈ ٹرائبرز (ST1/ST2) کی آبادی 20 فیصد ہے مگر بھرتیوں میں جموں کے لیے 15اور کشمیر کے لیے محض 5 فیصد مخصوص ہے۔ دیگر پسماندہ طبقات (OBC) کے کوٹے 8 فیصد ہیں مگر کشمیر وادی کو صرف 1.5 فیصد دیا جاتا ہے۔ مخصوص زمروں(RBA) کے 10 فیصد کوٹہ میں صرف 5.5 فیصد کشمیر وادی کے لیے مختص ہے۔2019 میں اقتصادی طور پر پسماندہ گروہوں کو مواقع فراہم کے نام پر متعارف کرایا گیا’ اکنامک ویکر سیکشن’ (EWS) کوٹہ کی تقسیم کا جھکاؤ قطعی طور پر جموں کے حق میں رکھاگیا ہے جہاں بھرتی میں اس کا حصہ 9.5 فیصد جبکہ وادی کشمیر کا حصہ محض 0.5 فیصد ہے۔ یہ واضح فرق کسی اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ بھرتی کے عمل میں سرکاری تعصب اور کشمیر مخالف نظام کا مظہر ہے۔

یہ امتیازی نظام نہ صرف اقتصادی، تعلیمی اور سماجی پسماندگی کا محرک ہے بلکہ اس اجتماعی سزاء کا بھی ایک حصہ ہیں جو دہائیوں سے بین لاقوامی سطح پ مسلمہ حق خودارایت مانگنے کی پاداش میں کشمیریوں کو دی جارہی ہے۔ کشمیر وادی طویل عرصے سے بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کا گڑھ ہے۔ ہر دور میں نوجوان اس مزاحمت کے سرخیل رہے ہیں جنھوں نے زمانوں کے حالات کے مطابق تحریک آزادی کی رفتار، سمت اور ترجیحات کو طے کیا۔ بھارت نے سب سے زیادہ انہی کو اپنے نشانہ پہ رکھا۔ اپنی فوج کے ذریعہ انھیں قتل اور گرفتار کرنے کے علاوہ حکومت نے ہمیشہ ان کے لئے روزگار اور تعلیمی مواقع محدود کئے ۔ وادی کشمیر میں چونکہ نجی شعبہ نہ ہونے کے برابر ہے چنانچہ کشمیری نوجوانوں کو روز گار کی خاطر بھارت یا دیگر ممالک کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس سے علاقے میں “برانِ ڈرین” پیدا ہوتا ہے، جو کشمیری معاشرے کی اقتصادی و سماجی بنیادیں کمزور کرتا ہے۔ فوج اور ایجنسیز کے دباؤ، ہراسانی، کالے قوانین، جن کے معمولی سے استعمال سے بھی نوجوانوں کا کیرئر مکمل طور پر تباہ ہوجاتا ہے، کے ساتھ ساتھ بے روزگاری ، مواقعوں کی عدم دستیابی کشمیری نوجوانوں کو مایوسی کے کنویں میں دھکیلتی ہے جہاں پھر بھارتی فوج کے کیمپ انھیں شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء فراہم کرکے انھیں مستقل اور مکمل تباہی کے حوالے کرتے ہیں۔

تعلیمی میدان میں اس منظم امتیاز کی تازہ مثال وشنودیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس (SMVDIME) ہے۔ حال ہی میں انڈیا کے نیشنل میڈیکل کمیشن نے جموں میں واقع اس کالج کو ایم بی بی ایس کی تعلیم دینے کے لیے دیا گیا اجازت نامہ منسوخ کر دیا۔ یہ وہی کالج ہے جسے گذشتہ برس ہی طب کی تعلیم دینے کی اجازت ملی تھی مگر پہلے بیچ کے داخلہ ٹیسٹ میں مقررہ 50 نشستوں میں سے 42 پر کشمیری مسلمان امیدوار کامیاب ہوئے جس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی اور ہندو تنظیمں تلما اٹھیں اور انھوں نے یہ کہہ کراپنے ہی قومی ادارے کے عمل کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا کہ یہ ادارہ ہندؤں کے چندے سے قائم ہے چنانچہ یہ صرف ہندو طلباء کے لیے مخصوص ہونا چاہئے۔ نتیجتاً، کالج کو فوری طور پر بند کر دیا گیا جس نے نہ صرف طلباء کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے بلکہ بھارت کی اصل ہندو فسطائی حقیقت کو بے نقاب کیا جو عرصہ دراز سے جمہوریت اور سیکولرازم کے مخملیں پردوں میں چھپی ہوئی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ مسلم علی گڑھ یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے خالص مسلمانوں کے لئے قائم اداروں میں ریاستی بدمعاشی کے ساتھ یہ کہہ کرہندو طلباء کو زبردستی داخلہ دلایا گیا اور انتظامیہ کو ہندووں کے حوالے کر دیا گیا کہ بھارت ایک سیکولر اور کثیرالمذاہب ملک ہے جہاں کسی فرقہ کے لئے الگ سے کوئی ادارہ یا ترقیاتی مواقعے نہیں ہونے چاہئے۔ مگر وشنودیوی کالج کے حوالہ سے یہ دعویٰ یا یہ معیار ہوا ہوگیا۔
ریزرویشن، جو بظاہر تاریخی ناانصافیوں کا ازالہ کرنے اور سماجی مساوات کو فروغ دینے کے لیے تھی، عملا کشمیری مسلمانوں کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ بھرتی اور تعلیمی پالیسیوں میں غیر مساوی تقسیم جموں کو فائدہ پہنچاتی ہے اور کشمیر وادی میں اشتعال اور بے اعتمادی پیدا کرتی ہے۔ نتیجتاً، کشمیر کے لوگ اقتصادی، تعلیمی اور سیاسی اعتبار سے پسماندہ رہتے ہیں۔

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ بھارتی ریاست ریزرویشن اور بھرتی کے نظام کو کشمیری عوام کو دبانے، اقتصادی و سماجی طور پر پسماندہ رکھنے کے لئے ہی نہیں بلکہ علاقے میں نوآبادیاتی فسطائی عزائم پورے کرنے کے لیے بھی استعمال کررہی ہے تاکہ کشمیری عوام جغرافیائی، معاشی اور سیاسی طور پر اتنے کمزور رہیں کہ وہ حق خودارادیت کے حصول کے قابل نہ رہیں ۔

یہ وقت ہے کہ عالمی برادری بھارت کے اس جابرانہ اور غیر منصفانہ نظام کو بے نقاب کرے، کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی پاسداری پر زور دے اور بھارتی ریاست کے نوآبادیاتی عزائم کو دنیا کے سامنے لائے۔ وادی کشمیر کے لوگ، اس منظم ظلم کے باوجود، اپنی مزاحمت اور آزادی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ظلم و جبر سے عوام کو کبھی دبایا نہیں جا سکتا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button