
1931 میں آج کے روزسینٹرل جیل سرینگر کے احاطے میں پیش آنے والا22بے گناہ کشمیری مسلمانوں کی شہادت کا دلدوز واقعہ ہمیں جموں کشمیر پر مسلط ڈوگرہ حکمرانوں کے جبر و استبداد کی یا د دلاتا ہے ۔ ڈوگرہ حکمرانوں نے نہ صرف ہر طرح کے ظلم و ستم کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنارکھی تھی بلکہ وہ کشمیر کی مسلم شناخت اور مسلمانوں کے دینی فرائض پر بھی بالکل اسی طرح حملہ آور تھے جس طرح سے اس وقت کی بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت ہے ۔
16مارچ 1946کو پنجاب کے شہر امرتسر میں انگریز اور مہاراجہ گلاب سنگھ کے درمیان معاہدہ ”بیع نامہ امرتسر “ طے پایاجسکی رو سے انگریزوں نے گلاب سنگھ کو دریائے سندھ کے مشرق اور دیائے راوی کے تمام مغربی علاقے جن میں ریاست جموں وکشمیر بھی تھی، بھیج ڈالے ۔ یہ سودا صرف 75لاکھ روپے کے عوض طے پایا۔یوں انگریزوں نے محض چند روپے فی کشمیری کے حساب سے ایک پوری قوم کو ڈوگرہ حکمرانی کے چنگل میں دیدیا۔بقول شاعر
وادیاں ، کہسار ، جنگل ، پھول ، پھل اور سب اناج
ڈھور ڈھنگر، آدمی ، ان سب کی محنت کام کاج
یہ مویشی ہوں کہ آدم زاد ہیں سب زرخرید
ان کے بچے، بچیاں، اولاد ہیں سب زرخرید
گلاب سنگھ اس قدر ظالم اور وحشی تھا کہ مخالفین ،مزاحمت کاروں اور آزادی کی تڑپ رکھنے والوں کی زندہ کھالیں کھنچواتا تھا اور اس بہیمانہ عمل کا خود مشاہدہ کرتا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پونچھ پر قبضے کے بعد اس ظالم نے وہاں کے لوگوں کا بے دریغ قتل عام کروایا اور علاقے کے رہنماﺅں سردار سبز علی خان اور ملی خان کو درختوں پر لٹکا کر زندہ کھالیں اتروائیں جبکہ سردارشمس علی خان کا سر قلم کروایا۔اس نے کشمیری مسلمانوں کو بیگارپرلگادیا۔ انہیں بلا اجرت دشوار گزار راستوں سے بوجھ اٹھا کر سینکڑوں میل پیدل چلنا پڑتا تھااور اس دوران اگر کوئی تھک کر گر پڑتا تو ڈوگرہ سپاہی اسکی پیٹھ پر کوڑ ے برسا دیتے۔ گلاب سنگھ کے دور میں مسلمانوں کے پاس کسی قسم کا ہتھیار ہونا تو دور کی بات ، انہیں گھروں میں استعمال ہونے والے چاقو رکھنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ گلاب سنگھ کے بعد اسکابیٹا رنبیر سنگھ مسند اقتدار پر براجمان ہوا ۔ اس نے حکومت سنبھالتے ہی کشمیر کی شال بافی کی صنعت کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی۔شال بافوں پر ظالمانہ ٹیکس لگا ئے اور پھر اسی کے دور میں ڈوگرہ سپاہیوں نے سرینگر کے علاقے زال ڈگر میں محنت کش شال بافوں پر بندقوں کے دہانے کھول دیے اورمورخین کے مطابق کم از کم 28کشمیری شال باف شہید کردیے ۔یہ ڈوگروں کے جبر واستبداد کے خلاف آواز اٹھانے والے پہلے گمنام کشمیری شہداءہیں۔رنبیر سنگھ کے بعد اسکا بیٹاپرتاپ سنگھ حکمران بنا ۔ وہ اس قدر مسلم دشمن ، متعصب اور فرقہ پرست تھاکہ اگر صبح اٹھ کر کسی مسلمان کا منہ دیکھتا تو یہ بات اسے سخت ناگوار گزرتی ، جس قالین پر بیٹھتا تھا اگر اس کے ساتھ کسی مسلمان کا ہاتھ یا پاﺅں لگ جاتا تو وہ نہ صرف قالین تبدیل کرتابلکہ غصے میں آکر اپنا حقہ توڑ ڈالتا جسے وہ وقفے وقفے سے پیتا رہتا تھا۔پرتاپ سنگھ کے بعد1925میں اسکا بھتیجا ہری سنگھ کشمیر کا حکمران بن گیا ۔ اس آخری ڈوگرہ حکمران کے دور میں سینٹرل جیل سرینگر کے باہر 22فرزندان توحید کی شہادت کا دلخراش واقعہ پیش آیا۔
1931کے آغازمیں جموں میں کھیم چند نامی ایک انتہا پسند ہندو نے قرآن پاک کی توہین کی ، اس واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد عید کے دن ایک امام کو مسجد میں خطبہ دینے سے روکا گیا ۔ ان واقعات نے مسلمانوں کو مشتعل کر دیا۔ جموں کی ”ینگ مینزمسلم ایسوسی ایشن“نے اس حوالے سے کچھ احتجاجی پوسٹر چھپوا دیے جو سرینگر بھی پہنچا دیے گئے ۔ یہ پوسٹرسرینگر میں دیواروں پر چسپاں کیے گئے ۔ ڈوگرہ سپاہیوں نے پوسٹر لگانے کی پاداش میں کئی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ جس کے ردعمل میں سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کے روز ایک بڑا احتجاجی جلسہ کیا گیاجس پر ڈوگرہ انتظامیہ نے مسجد میں تقریروں اور جلسوں پر پابندی عائد کر دی۔ توہین قرآن اور امام مسجد کو خطبہ دینے سے روکنے کے واقعات سمیت دیگر مسلم مخالف کارروائیوں پر مہاراجہ کے پاس احتجاج درج کرانے کیلئے وادی کشمیر اور جموں کے مسلمانوں کا ایک نمائندہ وفد تشکیل دیا گیا ۔ اس وفد میں شامل نمائندوں کی توثیق کے لیے 21جون1931کو سرینگر کے علاقے خانقاہ معلی میں ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس جلسے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگ شریک تھے۔ جلسے کی صدارت میر واعظ مولوی محمد یوسف شاہ نے کی تھی۔ یہ جلسہ اپنے اختتام کے قریب تھاکہ عبدالقدیر نامی ایک تنو مند شخص سٹیج پر چڑھ آیا اور تقریر شروع کردی. اس نے ظالم مہاراجہ کی خوب خبر لی اور مسلمانوں کو اسکے ظلم وجبر کیخلاف اٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کی۔
عبدالقدیر کی تقریر کو باغیانہ اور خلاف قانون دیکر چار روز بعد اسے سرینگر کے علاقے نسیم باغ سے گرفتار کیا گیا۔6جولائی کو اسکے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہوئی جو چار روز تک متواتر جاری رہی ۔ اس دورن ڈوگرہ حکومت کے لیے یہ مشکل کھڑ ی ہوئی کہ عدالت کے باہر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ عبدالقدیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جمع ہو جاتے تھے جس سے عدالتی کارروائی متاثر ہوتی تھی ۔ اس عوامی سیلاب سے بچنے کیلئے انتظامیہ نے عدالتی کارروائی سینٹرل جیل سرینگر کے اندر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا اور اسکے لیے 13جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ تیرہ جولائی کو حضرت شیخ حمزہ مخدوم ؒ کے سالانہ عرس کا دوسر ا روزتھا ۔ سرینگر کے کوہ ماران پر واقع ان کی زیارت گاہ پر بڑی تعداد میں لوگ عرس کی تقریبات میں شرکت کیلئے آئے تھے ۔ سینٹرل جیل اسی کوہ ماروان جسے ہاری پربت بھی کہا جاتا ہے ، کے دامن میں واقع ہے ۔ عبدالقدیر کے مقدمے کی سماعت سینٹرل جیل میں ہونے کی خبر زائرین تک بھی پہنچی تو انکی بھی ایک بڑی تعداد جیل کے احاطے میں امڈ آئی۔ اس دوران کسی نے خبراڑائی کہ قدیرکو پانچ برس قید کی سزاہو گئی۔ یہ سننے ہی ہی لوگ بپھر گئے۔یہ نماز ظہر کا وقت تھا، ایک شخص نے اذان دینا شروع کردی، ڈوگر ہ سپاہیوں نے اسکا نشانہ لیا اور گولی چلا دی، وہ گر پڑا ،اذان کی تکمیل کیلئے ایک اور شخص نے اسکی جگہ سنبھالی ، اسے بھی گولی مار دی گئی ۔ بدمست ،بے لگام اور وحشی ڈوگرہ سپاہی عبدالقدیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جمع مسلمانوں پر ، اذان کی تکمیل کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے والوں پر گولیاں چلاتے رہے ،بس یہی وہ تاریخ ساز لمحہ تھا جب 22فرزندان توحید نے اپنے خون سے جان نثاری و بہادری اور ظلم و جبر کے خلاف سینہ سپر ہونے کی ایک ایسی تاریخ رقم کی جو مدتوں مظلوموں ، محکوموں کا لہو ہمیشہ گرماتی رہے گی۔بقول شاعر
معرکہ آراﺅ ہاں آگے بڑھتے چلو
غاصبوں پر تند شیروں کی طرح چڑھتے چلو
اب تمہارے ہاتھ اس آغاز کا انجام ہے
ہم یہاں کام آگئے آگے تمہار ا کام ہے
لالہ رو یہ تربتیں یہ سینہ ہائے داغ داغ
ہم نے اپنے خون سے روشن کیے ہیں یہ چراغ
سرفروشو! ان چراغوں سے ضیالیتے ہوئے
آگے اور آگے بڑھو نام خدا لیتے ہوئے
بھارتی تسلط کے خلاف برسرپیکار کشمیری 1931کے ان عظیم شہداءکے مشن کو عزم وہمت سے آگے بڑھا رہے ہیں ، بھارتی جبر انکے حوصلے پست کرنے میں ناکام رہا ہے ، ڈوگرہ راج قصہ پارینہ بن چکا ہے ، جموں وکشمیر پر جاری بھارتی قبضہ بھی ایک دن ختم ہو کر ماضی کا حصہ بن جائے گا کیونکہ شکست و زوال غاصبوں ، ظالموں او ر جابروں کا مقدر ہے ،تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے اور یہی قانون قدرت ہے۔







