مقبوضہ کشمیر، جنوری میں ہونے والے قتل عام نے بھارتی قبضے کا سفاک چہرہ بے نقاب کیا

سرینگر :
غیر قانونی طور پر بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے متعدد وحشیانہ قتل عام کیے ہیں جن میں سے کئی جنوری کے مہینے میں پیش آئے، جنہوں نے کشمیری عوام کی اجتماعی یادداشت پر گہرے زخم چھوڑے اور بھارت کے قبضے کی پرتشدد نوعیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، 19 جنوری 1990 کو بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس نے سرینگر کے علاقے مگرمل باغ میں 14 شہریوں کو شہید کر دیاتھا۔اسی طرح 21 جنوری 1990 کو بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے گائو کدل علاقے میں 50 سے زائد شہریوں کو بے رحمی سے قتل کیا، 25 جنوری 1990 کو ہندواڑہ میں 25 کشمیری شہید ہوئے، 6 جنوری 1993 کو سوپور میں 60 سے زائد شہریوں کو شہید اور 350 سے زائد دکانیں و مکانات کو نظر آتش کردیاگیاجبکہ 27 جنوری 1994 کو کپواڑہ میں 27 شہریوں کو بھارتی فورسز نے قتل کیا۔6 جنوری 1993 کو بھارتی فوج نے سوپور میں 60 سے زائد شہریوں کو شہید کر دیا اور 350 سے زائد دکانیں اور رہائشی مکانات تباہ کر دیے۔ متاثرہ خاندان آج تک انصاف کے منتظر ہیں، جبکہ کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث بھارتی فوجی اہلکار آج بھی آزادگھوم رہے ہیں۔21 جنوری 1990 کو گائو کدل میں بھارتی فورسز نے پرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ مظاہرین بھارتی فوجیوں کی جانب سے متعدد خواتین کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔25 جنوری 1990 کو ہندوارہ میں بھارتی فورسز نے کم از کم 25 کشمیریوں کو قتل کیا۔19 جنوری 1991 کو سرینگر کے مگرمل باغ علاقے میں سی آر پی ایف نے خواتین سمیت 14 شہریوں کو شہید کیا۔27 جنوری 1994 کو بھارت کے یوم جمہوریہ کے ایک دن بعد، کپواڑہ میں بھارتی فوجیوں نے 27 شہریوں کا قتل کیا تاکہ 26 جنوری کو کی گئی احتجاجی ہڑتال پر کشمیریوں کو سزا دی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق، جنوری 1990 سے اب تک بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام کے تقریباً 30 سانحات میں 634 شہری شہید اور اربوں روپے کی املاک تباہ ہو چکی ہیں ۔نومبر 1947 میں بھارتی فوج، ڈوگرہ سپاہیوں اور ہندو انتہا پسندوں نے جموں میں 3 لاکھ سے زائد مسلمانوں کا قتل عام کیاتھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں عام شہریوں کے قتل عام کا مقصد کشمیریوں کو خوف ودہشت پھیلانا ہے ۔رپورٹ میں بھارتی ہندو توا حکومت اور بی جے پی کے رہنماؤں کے بیانات اور بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں خاص طور پر جینوسائیڈ واچ کے انتباہ کے حوالہ سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بی جے پی اورآر ایس ایس جیسی ہندوتوا تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں گائوکدل، سوپور اور کپواڑہ جیسے کشمیریوں کے قتل عام کے مزید واقعات دوہراسکتی ہیں ۔
ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں اظہار رائے، پرامن اجتماع اور دیگر حقوق پر مسلسل پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ 2023 میں بھارتی فورسز کے ذریعے غیرقانونی ہلاکتوں کی رپورٹس بھی سامنے آئیں۔ ناقدین اور انسانی حقوق کے کارکنان کو دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں گرفتار اور ان کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ اگست 2019 میں جینوسائیڈ واچ نے بھارت کے لیے دو انتباہ جاری کیے تھے۔ جن میں سے ایک مقبوضہ کشمیر اور دوسرا ریاست آسام سے متعلق تھا ۔ کشمیر کے لیے جاری انتباہ میں کہا گیا کہ 1990کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسزکے ہاتھوںکشمیریوں کے قتل عام کے کم از کم 25 واقعات رونما ہو چکے ہیں ، جو نسلی کشیُ کے عمل کے تحت آتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی بی جے پی حکومت نے مسلم اکثریتی جموں و کشمیر میں آباد ی کے تناسب کو بگاڑنے کیلئے مظالم کی ہر حد پار کر دی، تاہم وہ کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے مگرمل باغ قتل عام کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت تمام تر مظالم کے باوجود کشمیری عوام کو اپنی آزادی کی جدوجہد ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان کا مشن ہر حال میں مکمل کیا جائے گا۔ بیان میں کشمیریوں کے قتل عام کے تمام واقعات کی بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے سے غیر جانبدارانہ تحقیق کا مطالبہ بھی کیا گیا تاکہ ان میں ملوث بھارتی فورسزکے اہلکاروں کو سزا دی جا سکے۔






