مقبوضہ کشمیر،عمر عبد اللہ کا بھارت میں کشمیریوں کیلئے بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش

نئی دہلی غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے بھارت کے مختلف حصوں میں کشمیریوں کیلئے بڑھتے ہوئے خطرات، ہراسانی اور حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر ایسے رپورٹس جن میں کشمیری شال فروشوں کو ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے دھمکایا اور مارا پیٹا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، عمر عبد اللہ نے خبردار کیا کہ ایسے واقعات کشمیریوں کے درمیان خوف اور عدم تحفظ پیدا کر رہے ہیں جو مقبوضہ علاقے کے باہر رہائش پذیر یا کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات عدم برداشت کے خطرناک ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیریوں کی حفاظت اور وقار کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور شناخت کی بنیاد پر انہیں نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیریوں کے خلاف ہراسانی اور تشدد کے بار بار واقعات ایک منظم رجحان کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں انہیں شک اور دشمنی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ منتخب نمائندے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور عوام کی حفاظت کے لیے یقینی اقدامات کریں۔انہوں نے نئی دہلی میں بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات میں مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔
ادھر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مقبوضہ کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے منتخب حکومت کے کام میں مسلسل اور غیر ضروری مداخلت پر سخت تحفظات کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ ایسے اقدامات علاقے میں جمہوری حکمرانی کو کمزور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم انتظامی شعبے، بشمول غیر سیکیورٹی محکمے، ایل جی کے دفتر کے کنٹرول میں ہیں، جس سے وزیراعلیٰ کے اختیارات موثر طریقے سے محدود ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانزیکشن آف بزنس رولز کی منظوری میں تاخیر اور افسران کی تقرری منتخب حکومت کی مشاورت کے بغیر، انتظامی گھٹن اور جوابدہی میں کمی کا باعث ہے اور عوام کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔







