پاکستان کا عسکری نظریہ جارحیت پر نہیں بلکہ تہذیبی اقدار، اسٹریٹجک حقائق پر مبنی ہے، سردار مسعود خان
مضبوط معیشت کے بغیر پائیدار عسکری صلاحیت ممکن نہیں، سردار مسعود کا پینل مباحثے سے خطاب
اسلام آباد:
آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدرسردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا عسکری نظریہ جارحیت اور توسیعی پسندی پر مبنی نہیں بلکہ بنیادی طور پر دفاعی مقاصداور اسٹریٹجک حقائق اور معاشی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سردار مسعود خان نے اسلام آباد میں ایک اعلی سطح پینل مباحثے سے خطاب کر تے ہوئے کہاکہ پاکستان کا عسکری نظریہ بدلتے ہوئے خطرات کے تناظر میں بتدریج ارتقا پذیر رہا ہے، جو روایتی دفاعی حکمت عملی سے ڈیٹرینس اور فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس تک پہنچاہے۔ یہ ارتقا بنیادی طور پر بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور نظریات کا ردعمل ہے جبکہ پاکستان نے ہمیشہ تحمل، ذمہ داری اور اسٹریٹجک استحکام کو مرکزی اصول کے طور پر اپنایاہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سائبر صلاحیتوں، انفارمیشن وارفیئر، خلائی اثاثوں اور جدید ٹیکنالوجیز کو اپنے عسکری نظریے میں شامل کیا ہے، جو جدید جنگی تقاضوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دورحاضر میں تنازعات صرف روایتی میدان جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور عوامی شمولیت بھی فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔سردار مسعود خان نے کہ پاکستان کا جوہری نظریہ کم سے کم قابل اعتماد ڈیٹرینس پر مبنی ہے اور اس کا مقصد دفاع ہے نہ کہ جارحیت ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بحرانوں کے انتظام، ہتھیاروں کے کنٹرول اور خصوصا بھارت کے ساتھ مکالمے کو کشیدگی بڑھانے پر ترجیح دی ہے۔ انہوں نے عسکری نظریے میں سفارتکاری کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی دارالحکومتوں اور کثیرالجہتی فورمز پر پاکستانی سفارتکار پاکستان کے ضبط و تحمل کے موقف کو موثر انداز میں اجاگر اور جائز ثابت کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگوکرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان اب بحر ہند کے خطے میں بحری سلامتی، سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ اور خلیجی خطے کی کشیدگیوں اور ایران۔اسرائیل تنائو کے سکیورٹی اثرات پربھی نظررکھے ہوئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی طاقت اور قومی دفاع ایک دوسرے سے جدا نہیں، کیونکہ مضبوط معیشت کے بغیر پائیدار عسکری صلاحیت ممکن نہیں۔ انہوں نے تجارت، توانائی، رابطہ کاری اور عملی معاشی سفارت کاری پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی توجہ کو خوش آئند قرار دیا اور حالیہ پالیسی لچک کو طویل المدتی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مثبت قدم قرار دیا۔سردار مسعود خان نے دفاعی پیداوار میں مقامی صلاحیت کے فروغ پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان بتدریج اسلحہ درآمد کرنے والے ملک سے مقامی تیاری کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کی مثال جے ایف۔17طیارے جیسے جدید پلیٹ فارمز ہیں۔ پینل مباحثے میں دفاعی ماہرین، ماہرین تعلیم، سفارت کاروں اور طلبہ نے بھی شرکت کی۔






