بھارت

مودی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار، اپنے ہی شہریوں پر جاسوسی کے الزامات

نئی دہلی:بھارت میں بڑھتے ہوئے سیاسی دبائو اور اندرونی بحرانوں کے تناظر میں مودی کی قیادت میں قائم حکومت نے اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی مزید سخت کر دی ہے۔ اختلافی آوازوں کو دبانے اور عوام کو خوف میں مبتلا رکھنے کیلئے جاسوسی جیسے سنگین الزامات کا سہارا لیا جا رہا ہے، جسے مبصرین حکومت کی شدید گھبراہٹ اور عدم اعتماد کا واضح ثبوت قرار دے رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی سیکیورٹی اداروں نے راجستھان کے ضلع جیسلمیر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کیلئے جاسوسی کے شبے میں حراست میں لے لیا ہے۔ ملزم کی شناخت جھبرارام میگھوال کے نام سے کی گئی ہے، جسے نہیدان گاؤں میں واقع اس کے گھر سے رات گئے اٹھایا گیا۔ تاہم تاحال اس پر کوئی باضابطہ الزام یا چارج عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔حکام کے مطابق سی آئی ڈی انٹیلی جنس کی ٹیمیں زیر حراست شخص کو تفتیش کیلئے جے پور منتقل کر چکی ہیں جبکہ اس کا موبائل فون اور کمپیوٹر سسٹمز فرانزک جانچ کیلئے قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔ جھبرارام میگھوال گزشتہ چار برس سے گاؤں میں ایـمترا سینٹر چلا رہا تھا، جہاں وہ سرکاری اسکیموں کے تحت مقامی آبادی کو بنیادی ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرتا تھا۔بھارتی میڈیا نے نامعلوم انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ ملزم سوشل میڈیا کے ذریعے ایک پاکستانی خاتون سے رابطے میں تھا ۔ تاہم اب تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آ سکا، اور خود حکام بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ ابھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا کوئی معلومات شیئر کی گئیں یا نہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مبہم اور قیاس آرائی پر مبنی الزامات مودی حکومت کی بڑھتی ہوئی بوکھلاہٹ اور خوف کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں محض شبہ، سوشل میڈیا رابطہ یا معمول کی سرکاری دستاویزات تک رسائی بھی کسی عام شہری کو جاسوس قرار دینے کیلئے کافی سمجھی جا رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق ایسی کارروائیاں عوام میں خوف پھیلانے، سخت گیر سیکیورٹی اقدامات کو جواز فراہم کرنے اور اندرونی بحرانوں، معاشی بدحالی اور سیاسی اختلافِ رائے سے توجہ ہٹانے کیلئے استعمال کی جا رہی ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے نشاندہی کی ہے کہ شفاف قانونی عمل کے بغیر شہریوں کو ”جاسوس” قرار دینا بی جے پی کی قیادت میں قائم حکومت کیلئے ایک ہتھیار بن چکا ہے، جس کے ذریعے بالخصوص سرحدی اور متنازعہ علاقوں میں اپنی سختی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، جبکہ اس عمل سے بھارت بھر میں شہری آزادیوں اور انصاف کے تقاضے بری طرح مجروح ہو رہے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button