بھارت

اجین میں معمولی جھگڑا فرقہ وارانہ تشدد میں تبدیل، مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں پر حملے

نئی دہلی:بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع اجین کے شہر ترانہ میں ایک چھوٹے سے مقامی جھگڑے کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دے دیا گیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور گاڑیوں پر پرتشدد حملے ہوئے اور علاقے میں شدید فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو گئی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گزشتہ ہفتے کے آخر میں صورتحال بگڑ گئی جب ترانہ کے مختلف علاقوں سے پتھراؤ، توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ یہ تشدد ایک مقامی جھگڑے کے بعد شروع ہوا جس میں زخمی ہونے والے ایک شخص کی شناخت وشو ہندو پریشد کے کارکن کے طور پر ہوئی۔ واقعے کے بعد ہندو شدت پسند گروپوں نے اس واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا۔مقامی مسلمانوں نے بتایا کہ افواہیں جان بوجھ کر پھیلائی گئیں تاکہ جذبات بھڑکائے جائیں جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی جائیداد پر منظم حملے کیے گئے۔ کئی گھروں کو نقصان پہنچا، کھڑکیاں اور دروازے توڑے گئے، اور گھروں کے باہر کھڑی گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ ایک واقعے میں بس اسٹینڈ کے قریب کھڑی ایک بس کو آگ لگا دی گئی، جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ وہ ایک مسلمان رہائشی کی تھی۔
ایک مسلمان دکاندار نے بتایا، ”جو معمولی جھگڑا شروع ہوا تھا، اسے فرقہ وارانہ مسئلہ بنا دیا گیا۔ ہمارے گھروں، گاڑیوں اور دکانوں پر حملہ کیا گیا اور لوگ خوفزدہ ہو گئے۔” گواہوں کے مطابق جھڑپیں وقفے وقفے سے جاری رہیں، اور دونوں جانب سے پتھراؤ ہوا، تاہم مقامی مسلمانوں کے علاقوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ ایک رہائشی نے کہا، ”جب ہجوم جمع ہوا تو واضح تھا کہ کس کی جائیداد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”ادھر ہندو توا تنظیموں کے گروہ مقامی پولیس اسٹیشن پر جمع ہوئے اور ہنومان چالیسہ پڑھتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا، جس کے بارے میں مقامی مسلمانوں نے کہا کہ اس نے امن قائم کرنے کی بجائے فرقہ وارانہ کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button