مقبوضہ کشمیر:شوپیاں کے کئی دیہات کو پینے کے پانی کی عدم دستیابی کا سامنا
خواتین میلوں دور سے پانی لانے پر مجبور

شوپیاں: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں وادی کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیاں کے کئی دیہات کو پینے کے پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور خواتین کئی کلومیٹر دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سیڈو، بننی پورہ، حاجی پورہ، میمندر سمیت مختلف دیہات میں خواتین بنیادی گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کیلئے روزانہ تقریبا 3کلو میٹر دور سے اپنے کندھوں پر پانی لاد رہی ہیں جس کی وجہ سے انہیں سخت مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پینے کے پانی کی کمی نے معمول کی زندگی کو درہم برہم کردیا ہے ۔
مکینوں نے کہا کہ پینے کے پانی کی مناسب فراہمی کی عدم موجودگی نے خاندانوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، خواتین کو بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متعلقہ حکام کو بارہا اپیلوں کے باوجود علاقے میں پانی کی باقاعدہ فراہمی کے لیے تاحال کوئی موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
گاو¿ں والوں کا کہنا ہے کہ پینے کے صاف پانی تک رسائی بنیادی ضرورت ہے اور اس مسئلے کو طویل عرصے تک نظر انداز کرنا انتظامی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
متاثرہ دیہات کے مکینوں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ بلا تاخیر مداخلت کرے اور پانی کی قلت کا پائیدار حل فراہم کرے تاکہ انہیں روزمرہ کی مشکلات سے نجات دلائی جا سکے۔






