بھارت

مغربی اداروں میں اہم عہدوں پر تعینات بھارتی شہری سکیورٹی رسک قرار، عالمی رپورٹ میں انکشاف

بھارت حساس معلومات کے حصول کے لیے بیرون مملک مقیم اپنے شہریوں کو استعمال کر رہا ہے

اسلام آباد:
دنیا بھر بالخصوص مغربی ممالک کے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں بھارتی نژادشہریوں کی اہم اور حساس عہدوں پر تعیناتی کو ایک بڑے سکیورٹی رسک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت حساس نوعیت کی معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بیرونِ ملک موجود اپنے شہریوں کو منظم حکمت عملی کے تحت استعمال کر رہا ہے، جس پر مغربی پالیسی ساز حلقوں میںسخت تشویش پائی جاتی ہے۔بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکی سائبر دفاعی ادارے سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی کے عبوری سربراہ مدھو گوتمکلا نے حساس سرکاری دستاویزات ایک اے آئی ایپلیکیشن پر اپلوڈ کر دیں۔ یہ دستاویزات صرف سرکاری استعمال (For Official Use Only) کے زمرے میں شامل تھیں۔اس واقعے کے بعد امریکی محکمہ داخلی سلامتی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ مدھو گوتمکلا کا تعلق بھارت کی ریاست آندھرا پردیش سے ہے اور وہ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران CISA کے عبوری سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارتی نژاد افراد پر حساس ڈیٹا لیک کرنے یا جاسوسی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبرمیں بھی بھارتی نژاد امریکی اسٹریٹجک ماہر ایشلی جے ٹیلس کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے گھر سے ایک ہزار سے زائد خفیہ اور ٹاپ سیکریٹ امریکی دفاعی دستاویزات برآمد ہوئی تھیں۔اسی طرح 2023میں قطر میں جاسوسی کے الزام میں بھارتی بحریہ کے 8 سابق افسران کو بھی گرفتار کیاگیا تھا۔ امریکی سکیورٹی اداروں نے ان واقعات کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا تھا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے مغربی اور خلیجی ممالک میں بھارتی شہریوں کی حساس معلومات تک رسائی پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ایک طویل عرصے سے ایسا پیٹرن سامنے آ رہا ہے جس میں دفاعی منصوبوں، خفیہ معلومات اور سائبر نظام تک رسائی میں بھارتی شہری ملوث پائے گئے ہیں۔ماہرین نے امریکہ سمیت مغربی اور خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ حساس عہدوں پر فائز افراد کے پس منظر، روابط اور ممکنہ مفادات کا ازسرِنو جائزہ لیں تاکہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹا جا سکے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button