کسان تنظیموں نے بھارت-یورپی یونین تجارتی معاہدے کو معاشی استحصال کی دستاویز قراردیا

نئی دہلی: بھارتی کسان تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم سمیوکت کسان مورچہ (SKM) نے بھارت یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ”معاشی نوآبادیات کا بلیو پرنٹ“ قرار دیا ہے جو کسانوں کو تباہ کر دے گا، غیر صنعتی ترقی کو تیز کرے گا اوربے روزگاری کو بڑھائے گا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایک بیان میں ایس کے ایم نے ترقی اور مارکیٹ تک رسائی کے حکومتی دعوﺅں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایف ٹی اے بھارت کی معیشت پر منظم کارپوریٹ قبضہ اور قومی اقتصادی خودمختاری کو یورپی کارپوریٹ مفادات کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔ایس کے ایم نے اس معاہدے کوزراعت اور صنعت کے لیے یکساں تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کو سب سے زیادہ متاثر کرے گا، گھریلو مینوفیکچرنگ کو تباہ کرے گا اور ملازمتوں کو خطرے میں ڈالے گا۔ کسانوں کی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی وضاحت کریں کہ اگرمعاہدے پر یورپی پارلیمنٹ میں بحث ہو رہی ہے توبھارتی پارلیمنٹ میں اس پر بحث کیوںنہیں کی گئی۔ایس کے ایم نے کہا کہ بھارتی حکومت نے کیویز، ناشپاتی، ساسیجز اور دیگر یورپی مصنوعات پر تیزی سے محصولات کم کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی اور پراسیس شدہ کھانے کی اشیاءپر درآمدی محصولات کو ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس نے کہا کہ پراسیسڈ فوڈ مارکیٹ کھولنے سے ملکی زراعت پربہت زیادہ تباہ کن اثر پڑے گااور چھوٹے پروڈیوسروں کو نقصان پہنچے گا۔ایس کے ایم نے کہا کہ یہ معاہدہ یورپی یونین کے کسانوں کی حفاظت کرتا ہے جبکہ بھارتی کسانوں اور صارفین کو غیر منصفانہ مسابقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایس کے ایم نے یورپی رہنماو¿ں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ معاہدہ یورپ کو بھارت میں سب سے بڑی تجارتی منڈی فراہم کرتاہے جس سے سالانہ تقریباً 4 ارب یورو مالیت کی سبسڈی والے یورپی ڈیری مصنوعات، پروسیسڈ فوڈز، شراب اور اسپرٹ کی آمد کا خطرہ ہے۔ ایس کے ایم نے کہاکہ یہ مقابلہ نہیں بلکہ بھارت کے چھوٹے کسانوں کے خلاف معاشی جنگ ہے۔







