بھارت: مغربی بنگال میں گوشت کے مسلمان تاجروں کوبنگلہ دیشی قرار دیکر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا

کولکتہ :بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ میں ہندو انتہاپسندوں نے گوشت کے تین مسلمان تاجروں پر حملہ کرکے انہیں مارا پیٹا، ان کے ساتھ گالم گلوچ کیا اور انہیں بنگلہ دیشی قراردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس واقعے سے مسلمانوں کی حفاظت اور پولیس کے ردعمل کے حوالے سے تشویش پیداہوگئی ہے۔ متاثرین فراز علی پیادا، آکاش علی پیادا اور انصار علی پیادا کو 40سے50 لوگوں پر مشتمل ہندوتوا ہجوم نے نشانہ بنایا۔حملہ آوروں نے جن کی قیادت چندن منڈل اور کارتک ناسکر کررہے تھے، متاثرین کا قیمتی سامان بھی لوٹ لیا ۔تینوں کو تشویشناک حالت میں باروئی پور اسپتال لے جایا گیا اوروہ ذہنی صدمے سے دوچار ہیں۔ایک متاثرہ شخص نے بتایاکہ جب مجھے وہ اذیت یاد آتی ہے تو میں ٹوٹ جاتا ہوں۔پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے لیکن متاثرین کا کہنا ہے کہ اہم ملزمان ابھی تک فرار ہیں۔انسانی حقوق کے گروپوں نے نفرت انگیز جرم کی مذمت کرتے ہوئے اسے بھارتی مسلمانوں کے وقار اور شہریت پر حملہ قرار دیا۔







