مقبوضہ کشمیر،ریاستی حیثیت کی بحالی تک عوامی اعتماد بحال نہیں ہوسکتا : طارق حمید قرہ

جموں:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کانگریس نے نئی دہلی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطے کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے واضح اور دو ٹوک روڈ میپ کا اعلان کرے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر کے اسمبلی سے خطاب پر مقبوضہ جموںو کشمیر کانگریس کے صدر طارق حمید قرہ نے بھارتی حکومت کے عوامی شراکت داری اور اعتماد سے متعلق دعوؤں پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا ”جب تک عوام کا بنیادی مطالبہ، یعنی ریاستی حیثیت کی بحالی حل نہیں ہوتا عوامی اعتماد کیسے قائم ہو سکتا ہے؟”۔طارق قرہ نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس کی مرکزی قیادت جن میں پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی شامل ہیں، پارلیمنٹ میں اور وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت مسلسل ”مناسب وقت”پر ریاستی حیثیت بحال کرنے کے وعدے تو کرتی ہے، مگر اس کے لیے کوئی معیار یا مدت طے نہیں کی جاتی۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ مناسب وقت کیا ہے؟ اس کا پیمانہ کیا ہے؟ اور جموں و کشمیر کے عوام کو آخر کب تک انتظار کرنا ہوگا؟۔بی جے پی پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے طارق حمید قرہ نے جموں کو الگ ریاست بنانے کے خیالات کو علاقائی بداعتمادی کا باعث قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات ماضی میں بھی خطے کی اجتماعی قوت کو کمزور کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
کشمیری پنڈتوں کی واپسی اور بحالی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ محض علامتی اقدامات یا مالی پیکجز سے حل نہیں ہو سکتا۔ ضرورت ایک جامع، مستقل اور باعزت منصوبے کی ہے جو سیکیورٹی، معاشی استحکام اور سماجی حقوق کی ضمانت دے، تاکہ کشمیری پنڈت وادی میں وقار کے ساتھ واپس آ سکیں۔انہوں نے تجویز دی کہ منتخب نمائندوں پر مشتمل ایک مستقل کمیٹی قائم کی جائے جو کشمیری پنڈت برادری کے ساتھ باضابطہ مکالمہ شروع کرے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی محفوظ اور باعزت واپسی کے لیے حکمتِ عملی تیار کرے۔KMS-1/A







