موجودہ انتظامیہ نے لداخ کے عوام کو دربدر کیا ہے: سجاد کرگلی
لداخیوں کو 6 برسوں سے ایک بھی گزیٹیڈ پوسٹ کی نوکری نہیں ملی
لہہ : کرگل ڈیموکرٹیک الائنس کے سینئر رہنما اور لداخ کے معروف سماجی و سیاسی کارکن سجاد کرگلی نے کہاہے کہ ہم یونین ٹیریٹوری کی انتظامیہ سے خوش نہیں ہیںکیونکہ اس سیٹ آپ نے لداخ کے عوام کو دربدر کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سجاد کرگلی نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہاکہ جن لوگوں نے دفعہ 370اور 35اے کی منسوخی کے موقع پر مٹھائی تقسیم کی ،وہ بعد میں یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ غلط ہوا ہے اوران لوگوں میں سونم وانگچک بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کا حصہ ہوتے ہوئے ہمیں نوکریاں بھی ملتی تھیں اور ہمارے منتخب نمائندے ہماری ترجمانی بھی کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال نوآبادیاتی سوچ کی عکاسی ہے جو انگریزوں کا نظریہ تھا۔انہوں نے کہا کہ لداخ کی حیثیت ختم کرکے اسے یوٹی بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ”سب کچھ اچھا ہے“کے دعوﺅں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔گزشہ چار برسوں سے بھارتی حکومت کیساتھ مذاکرات ہوررہے ہیںجس پربھارتی حکومت خوش نہیں ہے۔ لداخیوں نے زمینوں کی حفاظت اور چھٹے شیڈول کا مطالبہ کیا تو بھارتی حکومت کو یہ اچھا نہیں لگا ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں سے لداخیوں کوایک بھی گزیٹیڈ پوسٹ کی نوکری نہیں ملی۔انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک جیل میں ہیں۔5اگست2019کو لہہ اور کرگل میں دو الگ الگ نظریات تھے لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ دونوں علاقوں کے لوگوں کو احساس ہوا کہ ان کیساتھ غلط کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک کو بھارتی حکومت کا فیصلہ تسلیم نہ کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا 1947سے لیکر آج تک لداخ میںبھارت کی اتنی مخالفت نہیں ہوئی جتنی گزشتہ چھ برسوں سے ہورہی ہے۔سجاد کرگلی نے کہا کہ علاقے میں بی جے پی کے لوگ بھی اندر خانے بھارتی حکومت سے خوش نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں سیاحت روز گار کا واحد ذریعہ ہے،لیکن پہلے کورونا وائرس کی وبانے اس کا بیڑا غرق کیا اور رہی سہی کسر آپریشن سندور نے پوری کی جس کے نتیجے میں یہاں سیاحوں نے رخ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔






