بھارت

بھارت:اترپریش کے اسکول میںقرانی آیت کی نمائش پر مسلمان ٹیچر اور ہیڈ مسٹریس معطل

لکھنو: بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سنبھل میںیک سرکاری پرائمری اسکول کے کلاس روم کے دروازے پر ایک فریم شدہ قرآنی آیت آویزاں کرنے کے خلاف ہندو انتہاپسندوں کے احتجاج کے بعداسکول کی ہیڈ مسٹریس اورایک مسلمان ٹیچرکو معطل کر دیا گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بجرنگ دل اور وشو اہندو پریشد کے ارکان ناگلہ پوروا اسکول پہنچے اور ٹیچر محمد ناظم کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری اسکولوں میں مذہبی علامات کی کوئی جگہ نہیں اوردعویٰ کیا کہ ناظم اسکول میں اسلام کی تعلیم دے رہے ہیں۔ ٹیچر ناظم اور مقامی لوگوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔ناظم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں ایک سرکاری استاد ہوں اور صرف مقررہ نصاب پر عمل کرتا ہوں۔واقعے سے متعلق ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہندوتوا کے کارکن زبردستی کلاس رومزمیں گھس جاتے ہیں اور مانیٹرنگ ٹیم کے طور پرکتابوں اور بلیک بورڈز کا معائنہ کرتے ہیں۔ ایک تحریری شکایت کے بعد فریم شدہ قرآنی آیت کو ہٹا دیا گیا اور حکام نے ناظم اور ہیڈ مسٹریس پشپا جاتو کو معطل کر دیا۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ اس اقدام سے اسکول کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور اس کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ناقدین نے جلدبازی میں اساتذہ کی معطلی پر سوال اٹھایا ہے۔ ایک مقامی کارکن نے کہاکہ ہندو انتہاپسندوںکے دباو¿ پر مناسب تحقیقات سے پہلے عملے کو سزا دینے سے ایک خطرناک مثال قائم ہوگی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ اسکول کے بارے میں پہلے سے کوئی شکایت نہیں تھی اور کہا کہ حکام نے مسلمان استاد کو اس کے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button