اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی شدید ہنگامہ آرائی کے باعث لوک سبھاکا اجلاس ملتوی
نئی دلی:
بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیرین لوک سبھا میں پیر کو اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان بجٹ پر شدید ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی ایک دن کے لیے ملتوی کردی گئی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پیر کو ہنگامہ آرائی کے باعث دو بار کارروائی ملتوی کی گئی تاہم دوپہر دو بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی اور پریزائڈنگ افسر سندھیا رائے نے بجٹ پر بحث شروع کرنے کے لیے کانگریس کے ڈاکٹر ششی تھرور کا نام لیا۔ ڈاکٹر تھرور نے کہا کہ اپوزیشن کے لیڈر ایوان میں بولنا چاہتے ہیں، یہ ان کا حق ہے مگر انہیں بولنے نہیں دیا جا رہا۔اسی دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ تقریبا ایک گھنٹہ پہلے وہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ انہیں ایوان میں کچھ مسائل پر بولنے کی اجازت دی جائے گی، لیکن کارروائی شروع ہوتے ہی حکومت اپنی بات سے پیچھے ہٹ گئی۔دونوں اطراف سے ہنگامہ آرائی اور شو ر شرابے پرپریزائیڈنگ افسر نے ایوان کی کارروائی منگل تک ملتوی کر دی۔اس سے پہلے صبح 11بجے جیسے ہی اسپیکر اوم برلا نے سوال وجواب کا سلسلہ شروع کیا تو اپوزیشن کے اراکین نے ہنگامہ شروع کر دیا، جس کے باعث کارروائی 12بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ 12بجے اجلاس شروع ہونے کے بعد بھی ایوان میں ہنگامہ آرائی جاری رہی جس کے باعث کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی گئی تھی۔





